Thursday, 21 February, 2008, 16:03 GMT 21:03 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی مجلس عاملہ اور مرکزی پارلیمانی پارٹی کے پہلے مشترکہ اجلاس میں میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی سربراہ منتخب کیا ہے۔
فی الوقت میاں نواز شریف اور شہباز شریف کسی اسمبلی کے رکن تو نہیں ہیں لیکن ان کی جماعت نے جمعرات کو جہاں میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی میں قائد بنانے کا فیصلہ کیا وہاں میاں شہباز شریف کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر مسلم لیگ (ن) کے چئرمین راجہ ظفرالحق نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ منشور پر عمل درآمد کے لیے اور خصوصاً ججوں کی بحالی کے لیے ان کی جماعت عوام سے کیا گیا وعدہ نبھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’عدلیہ کے معاملے پر کوئی دو رائے نہیں ہے اور دوسری جماعتوں کا بھی یہی موقف ہے کہ ججز کو اپنے عہدوں سے ہٹانا غیر آئینی تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ججز کو بحال ہونا چاہیے اور پیپلز پارٹی بھی آزاد عدلیہ کی حامی ہے اور اب ججز کو بحال کرنے کے لیے آپس میں طریقۂ کار طے کرنا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ طریقہ کار حکومت سازی سے پہلے بھی یا بعد میں طے کیا جا سکتا ہے اور کوشش ہے کہ ان معاملات پر اتفاق رائے جلد پیدا ہو جائے گا۔
راجہ ظفرالحق نے مطالبہ کیا کہ صدر پرویز مشرف اپنے اس وعدے پر عمل کریں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کے حامی ہار گئے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم نے اپنا فیصلہ صدر مشرف کے خلاف دیا ہے اب ان کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں۔