Sunday, 17 February, 2008, 15:19 GMT 20:19 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایڈشنل آئی جی سی آئی ڈی چوہدری عبدالمجید نے کہا ہے کہ بےنظیر قتل کیس میں گرفتار ہونے والے سولہ سالہ اعتزاز شاہ نے اپنے اقبالی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن پر ہونے والے خودکش حملے میں بیت اللہ محسود ملوث ہے۔
اتوار کے روز راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران ملزم اعتزاز شاہ کو بیت اللہ محسود کی وہ گفتگو کی ریکارڈنگ سنائی گئی جو کہ حکومت نے بےنظیر بھٹو کے قتل کے چوبیس گھنٹے کے بعد بیت اللہ محسود اور ان کے ایک ساتھی کے درمیان ٹیلی فون پرہونے والی بات چیت ریکارڈ کی تھی۔ جس کو سننے کے بعد ملزم نے کہا کہ یہ آواز قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے اس قتل کے دو دن کے اندر اندر اس واقعہ کی ذمہ داری بیت اللہ محسود پر ڈال دی تھی لیکن انہوں نے بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔
چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ بیت اللہ محسود کا شمالی وزیرستان میں تربیتی کیمپ ہے جہاں پر خودکش حملہ آورں کو تربیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ قبائلی شدت پسند کے ساتھی پہلے مرحلے میں اکوڑہ خٹک میں خودکش حملہ آوروں کو ذہنی طور پر تیار کرتے ہیں
پھر ان کو وہاں سے شمالی وزیرستان تربیت کے لیے لے جایا جاتا ہے۔
|
|
چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ ملزم نے بتایا کہ انہوں نے بارہ دسمبر کو پشاور میں واقع پبی میں اس حملے کی مشق کی تھی۔
پریس کانفرنس میں تفتیشی ٹیم کے سربراہ نےدعوٰی کیا کہ ایک شخص نصراللہ عرف احمد بھی بےنظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص مبینہ خودکش حملہ آور بلال اور اس کے ساتھی اکرام اللہ کو راولپنڈی لیکر آیا تھا اور اس دوران وہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گھومتے رہے اور انہیں لال مسجد بھی لیکر گئے۔
انہوں نے کہا کہ نصراللہ عرف احمد بھی ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوچکا ہے۔
چوہدری عبدالمجید نے اس پریس کانفرنس میں بھی پرانی کہانی دہرائی جس میں انہوں نے کہا کہ مبینہ خودکش حملہ آور ملزم رفاقت کے گھر پر ٹھہرے اور انہیں خودکش جیکٹیں جبکہ بلال کو پستول بھی دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ اس واقعہ میں مزید دو افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ بےنظیر بھٹو کیس میں گرفتار ہونے والے پانچ افراد میں سے چار افراد نے اس واقعہ میں ملوث خودکش حملہ آور کو سہولتیں باہم پہنچانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی تفتیش سے بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں جن میں سے کچھ سوال یہ بھی ہیں کہ ان ملزمان کو جنہوں نے مبینہ
طور پر اقبالی بیان دیے ہیں انہیں نہ تو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اوو نہ ہی ان کے ساتھ کسی کو ملنے کی اجازت دی ۔