Saturday, 16 February, 2008, 08:03 GMT 13:03 PST
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں سکیورٹی فورسز نے مقامی طالبان کے ایک اہلکار کو دو گھنٹے کی فائرنگ کے بعد گرفتار کر لیا ہے جبکہ دو جنگجوگاڑی چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
فائرنگ کے تبادلے میں کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
تحصیل ٹل میں پولیس کے ایک افسر میر علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح نو بجے کے قریب ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل سے ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی میں تین مسلح مشکوک افراد شمالی وزیرستان کی طرف جارہے تھے کہ ٹل سے چار کلومیٹر جنوب کی جانب کرُم پل میں سپین ٹل چیک پر سکیورٹی فورسز نے گاڑی رکنے کی کوشش کی تو مسلح افراد نے گاڑی کو بھگادیا۔
جس پر سکیورٹی فورسز نے گاڑی پر فائرنگ شروع کی جس کے نتیجہ میں مسلح افراد نے گاڑی چھوڑ کر دوسری جانب سے سکیورٹی فورسز پر جوابی فائرنگ شروع کی۔
پولیس افسر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تقریباً دو گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا اس کے بعد پولیس اور ایف سی اہلکار گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ایک مشکوک فرد گاڑی سمیت گرفتار کر لیاگیا ہے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے شخص کا نام عبیداللہ ہے اور اس کا تعلق محسود قبیلے سے ہے۔ گاڑی سے دو کلاشنکوف اور کچھ گرینیڈ برآمد ہوئے ہیں۔
تحصیل ٹل پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملحقہ علاقہ ہے جہاں پہلے بھی کئی بار سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے ہوچکے ہیں اور کئی بار اہلکاروں کو اغواء بھی کیا گیا ہے۔