Saturday, 16 February, 2008, 10:26 GMT 15:26 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے علاقے قلات منگوچر اور آواران میں ان سکولوں کے پاس دھماکے ہوئے ہیں جنہیں اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے پولنگ سٹیشن قرار دیا گیا ہے۔
ادھر ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے جس سے دو اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
قلات میں ایک دھماکہ گورنمنٹ مڈل سکول چشمہ قلات کے گیٹ کے پاس ہوا ہے جس سے سکول کی دیوار اور کھڑکیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسرا دھماکہ منگوچر میں گورنمنٹ ہائی سکول محمود گہرام کے پاس ہوا ہے۔
آواران میں گشکور میں ایک سکول کے قریب دھماکے سے سکول کی دیوار کو نقصان پہنچا ہے، لیکن ان دھماکوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ان تینوں سکولوں کو اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے پولنگ سٹیشن قرار دیا گیا ہے ۔
یاد رہے کہ جمعرات کو مچھ میں ایک گرلز ہائی سکول کے پاس دھماکے سے تین بچے اور ایک شخص زخمی ہو گئے تھے۔ اس سکول کو بھی پولنگ سٹشن قرار دیا گیا ہے، لیکن تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے ایسے پمفلٹ جاری کیے گئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں کیونکہ یہ تنظیمیں پولنگ سٹیشن پر حملے کر سکتی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے سخت حفاطتی انتظامات کیے گئے ہیں اور صوبہ بھر میں فوج نیم فوجی دستے اور پولیس کے کوئی ساٹھ ہزار اہلکار موجود ہوں گے۔
ادھر پولیس کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں لوٹی کے قریب فرنٹیئر کور کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے جس سے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے غیر ملکی مبصرین کو اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ لیکن جمہوری وطن پارٹی کے مقامی رہنما شیر محمد بگٹی اور مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ غیر ملکی مبصرین کو ان علاقوں میں ضرور جانا چاہیے تاکہ وہ دیکھیں کہ انتخابات کس طرح ہو رہے ہیں۔