http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 15 February, 2008, 08:09 GMT 13:09 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

چیک پوسٹ حملہ، صوبیدار ہلاک

نیم قبائلی علاقہ درہ آدم خیل سے متصل صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے علاقہ متنی میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے حملہ میں ایک صوبیدار ہلاک اور ایک سپاہی زخمی ہوا ہے۔

پشاور کے نواح میں واقع متنی پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے بعض مبینہ’ شرپسندوں‘ نے درہ آدم خیل سے متصل فرنٹئر کانسٹیبلری کے کشن گڑھ نامی چیک پوسٹ پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حملے میں ایک صوبیدار عبدالصمد ہلاک جبکہ ایک سپاہی معمولی زخمی ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

درہ آدم خیل میں گزشتہ ماہ مقامی طالبان کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد پہلی مرتبہ کسی چیک پوسٹ کو ایک بار پھر حملہ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جمعہ کی شام کو بھی نامعلوم مقام سے کوہاٹ ٹنل پر راکٹ فائر کیا گیا تھا، جس کے بعد حکام نے ٹنل کو کچھ دیر تک بند کر دیا تھا۔

دوسری طرف جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے سول ہسپتال پر ہونے والے میزائل حملہ میں ایک وارڈ کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران لنڈی کوتل ہسپتال کو چوتھی مرتبہ حملہ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دو دن قبل بھی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا نہیں تھا۔

ان حملوں کے خلاف جمعہ کو ڈاکٹروں اور دیگر عملہ نے احتجاجاً ہڑتال کی اور تقریباً دو سو سے زائد اہلکاروں نے لنڈی کوتل بازار میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرہ میں شامل فاٹا پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر فضل الرحمن نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان حملوں کا سلسلہ فوری طور بند ہونا چاہیے اور حکومت ان کے پیچھے کارفرما شرپسندوں کو منظر عام لا کر سزا دے۔