Friday, 15 February, 2008, 17:36 GMT 22:36 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ایک اور ملزم عبدالرشید نے اقرار کیا ہے کہ اس نے خود کش حملہ آوروں کو سہولتیں بہم پہنچائی تھیں۔مبینہ ملزم نے یہ اقبالی بیان جمعہ کو عدالت میں دیا۔
ملز م کب گرفتار کیا گیا اس کے بارے میں پولیس نے میڈیا کو کچھ نہیں بتایا اور بی نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ چوہدری عبدالمجید کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو پر حملے کی منصونہ بندی کرنے والوں میں پانچ افراد شامل تھے اور اب پانچ ملزمان پولیس کی تحویل میں ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس سے پہلے دو افراد محمد رفاقت اور حسنین نے دو روز قبل عدالت میں ایک اقبالی بیان دیا تھا جس میں انہوں
نے مبینہ خودکش حملہ آور بلال اور اکرام اللہ کو سہولتیں مہیا کرنے کا اقرار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے گھروں پر چھاپے
مار کر وہاں سے خودکش حملے میں استعمال ہونے والی جیکٹس اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر لی گئی تھیں جبکہ ملزمان رفاقت اور حسنین
کے ورثاء کا دعوی ہے کہ ان کے بیٹے دینی رجحان ضرور رکھتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی شدت پسندوں کے ساتھ نہیں رہے۔
|
قاتلوں سے تعلق نہیں
|
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بشارت اللہ نے کہا کہ جب مقدمے کی سماعت شروع ہوتی ہے تو پھر اس کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقدمے کی سماعت کے دوران یہ معلوم ہوجائے کہ ملزم سے اقبالی بیان زبردستی لیا گیا ہے تو اس کی کوئی قانونی حثیت نہیں رہتی اور ملزم عدالت میں دوبارہ بیان دے سکتا ہے۔
ملزم رفاقت کے والد صابر حسین نے دعوی کیاہے کہ ان کے بیٹے اور داماد حسنین کا کبھی بھی ان افراد کے ساتھ تعلق نہیں رہا جو بینظیر بھٹو کے قاتل بتائے جاتے ہیں اور وہ بےگناہ ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا اور داماد ایک ماہ سے زائد عرصہ پولیس کی تحویل میں رہے ہیں اور اس دوران پولیس نے تشدد کرکے ان سے اقبالی بیان لے لیا ہوگا۔
بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم نے رفاقت اور حسنین کی گرفتاری چھ فروری کو ظاہر کی تھی اور تفتیشی ٹیم
کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اقبالی بیان اپنی مرضی سے دیا ہے۔