Thursday, 14 February, 2008, 12:03 GMT 17:03 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں متعین پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین کی تلاش چوتھے روز (یعنی جمعرات) کو بھی جاری ہے، تاہم تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
دوسری طرف مقامی انتظامیہ نے غفلت برتنے اور اجتماعی ذمہ داری کے تحت دس خاصہ دار اہلکاروں سمیت بیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔
پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو بھی جمرود، لنڈی کوتل اور باڑہ تحصیلوں میں کئی مشکوک ٹھکانوں کی تلاشی لی گئی ہے لیکن گمشدہ سفیر کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ روز پولیٹکل ایجنٹ خیبر کے حکم پر اورکزئی اور خیبر ایجنسی کی سرحد پر واقع لکڑ بابا چیک پوسٹ پر تعینات دس خاصہ دار اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق خاصہ دار اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے سفیر کو اغواء کاروں کے ہمراہ ایک مشکوک گاڑی میں چیک پوسٹ سےگزرتے ہوئے دیکھا تھا تاہم اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش نہیں کی ۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے اجتماعی ذمہ داری کے تحت ملک دین خیل قبیلے کی ذیلی شاخ جھنڈا خیل قبیلے کے دس افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ طارق عزیز الدین اس سے پہلے بھی کئی بار مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیے بغیر بذریعہ گاڑی خیبر ایجنسی کے راستے افغانستان جاتے رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں وزرات خارجہ کو ایک خط بھی لکھا گیا تھا جس میں اعلٰی سفارتی اہلکار کا بغیر سکیورٹی کے افغانستان جانے کے عمل کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین اتوار کے روز پشاور سے کابل جاتے ہوئے خیبر ایجنسی کی حدود میں ایک محافظ اور ڈرائیور سمیت لاپتہ ہو گئے تھے۔
طارق عزیز الدین کو پشاور سے تیس کلو میٹر دور جمرود میں علی مسجد کے قریب دیکھا گیا تھا۔