Thursday, 14 February, 2008, 07:22 GMT 12:22 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں بلوچ کالعدم تنظیموں نے مختلف علاقوں میں ایسے پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان حکومت کے ان انتخابات میں کسی طور پر بھی حصہ نہ لیں اور نہ ہی پولنگ سٹیشن پر جائیں وگرنہ وہ حالات کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
یہ پمفلٹ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کی جانب سے ہے لیکن اس میں تینوں کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن آرمی کا ذکر ہے اور تینوں تنظیموں کی جانب سے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں اور نہ ہی انتخابات کے روز پولنگ سٹیشن کی طرف جائیں۔
بلوچستان میں ان کالعدم تنظیموں کے علاوہ آٹھ تنظیموں جیسے بلوچ بار ایسوسی ایشن، بلوچ خواتین پینل، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، بلوچ نیشنل موومنٹ اور دیگر نے بلوچ نینشل فرنٹ کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا ہے جس نے انتخابات کو مسترد کیا ہے۔
اس پمفلٹ میں ان امیدواروں کو سختی سے تنبیہ کی گئی ہے جو بلوچ خواتین کو پولنگ سٹیشن لے جانے کی کوشش کریں گے تو وہ حالات کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ پمفلٹ میں تحریر ہے کہ ان تنظیموں کے کارکن پولنگ سٹیشن پر حملہ کرسکتے ہیں۔
اس طرح کے پمفلٹ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تقسیم کیے گئے ہیں جن میں بلوچوں سے کہا گیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی بالاچ مری دلوش بلوچ خالد بلوچ اور دیگر افراد کی شہادت کے علاوہ بڑی تعداد میں مبینہ طور پر ایجنسیوں کی تحویل میں بلوچوں پر ظلم مختلف علاقوں میں بمباری فصلوں اور مویشیوں کے ضیائع کے علاوہ بلوچوں پر ظلم کو بھلایا نہیں جا سکتا۔
اس بارے میں اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نے کہا ہے کہ انتخابات ان کے مسائل کا حل نہیں ہیں اس وجہ سے انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان انتخابات میں کسی طور شرکت نہ کریں۔
ادھر بلوچستان کے شہر مچھ میں لڑکیوں کے ایک سکول میں قائم پولنگ سٹیشن میں زوردار دھماکے سے تین بچوں سمیت چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔دھماکہ کوئٹہ سے کوئی چالیس کلومیٹر دور مچھ شہر میں جمعرات کی صبح گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے قریب ہوا۔
علاوہ ازیں ڈیرہ بگٹی سے جمہوری وطن پارٹی کے مقامی رہنما شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ سات دنوں سے کاہان اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں کچھ کو کوہلو سبی اور ڈیرہ بگٹی میں قائم کیمپوں پر لے جایا گیا ہے۔ کوہلو سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ان کے غلے اور مویشیوں کو ضائع کردیا گیا ہے اور بعض علاقوں سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی جا رہی ہیں۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔