رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے فائربندی کے مطابق صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے بندکرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف ان کی کارروائیاں بغیر کسی وقفہ کے جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ’مجاہدین’ افغانستان جا کر امریکیوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھیں گے‘۔
مولوی عمر نے ایک امریکی اہلکار کے اس بیان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن اور طالبان امیر مولا عمر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی امریکیوں کے خلاف جنگ تو افغانستان میں ہورہی ہے وہ قبائلی علاقوں میں کیا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اہلکار کے بیان کا مقصد قبائلی علاقوں کو بدنام کرنا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ کی طرف سے بار بار اس قسم کے بیانات جاری کرنے کا مقصد قبائلی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھولنا ہے تاکہ ان کے بقول افغانستان میں امریکی فوج کی ’مجاہدین‘ کے ہاتھوں شکست سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے۔