http://bbc.com.im/urdu/

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’امریکیوں پر حملے جاری رہیں گے‘

پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے فائربندی کے مطابق صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے بندکرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف ان کی کارروائیاں بغیر کسی وقفہ کے جاری رہیں گی۔

اسامہ، ملا عمر پاکستان میں ہیں

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے اتوار کو بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ چند روز قبل تنظیم نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وزیرستان سے لے کر سوات تک پاکستانی فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری جنگ بند کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ’مجاہدین’ افغانستان جا کر امریکیوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھیں گے‘۔

مولوی عمر نے ایک امریکی اہلکار کے اس بیان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن اور طالبان امیر مولا عمر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی امریکیوں کے خلاف جنگ تو افغانستان میں ہورہی ہے وہ قبائلی علاقوں میں کیا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اہلکار کے بیان کا مقصد قبائلی علاقوں کو بدنام کرنا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ کی طرف سے بار بار اس قسم کے بیانات جاری کرنے کا مقصد قبائلی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھولنا ہے تاکہ ان کے بقول افغانستان میں امریکی فوج کی ’مجاہدین‘ کے ہاتھوں شکست سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے۔