10 February, 2008 - Published 20:03 GMT
جمعیت علماء اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس تاثر کی پرزور الفاظ میں نفی کی ہے کہ متحدہ مجلس عمل توڑنے
کے ذمہ دار وہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمان بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں دنیا بھر سے سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی موجودگی کے الزامات اور اس پر اپنی کی پالیسی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ: ’پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر کسی کو بھی پاکستان کے قوانین پامال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بات کہ یہاں کوئی غیر ملکی رہتا ہے یا نہیں، تو اس حوالے سے مجھ پر تو پابندی ہے (کیونکہ) انیس سو ننانوے سے جب نواز شریف کی حکومت تھی اور مجھے قبائلی علاقوں میں جانے سے روکاگیا، آج تک مجھے ان علاقوں میں جانے نہیں دیا گیا، تو پھر باہر کے لوگوں کے بارے میں ذاتی طور پر تو یقیناً نہیں جانتا۔‘
ٹاکنگ پوائنٹ میں مولانا فضل الرحمان سے یوکرین، جاپان، آسٹریلیا، چین، کینیڈا سمیت میانوالی، سکھر، بہاولنگر، اور کوئٹہ سے سامعین
نے سوال کیے۔
|
یہ کیسا تاثر
|
ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے ایم ایم اے کو نہیں توڑا بلکہ جماعت اسلامی نے خود اتحاد سے علیحدہ ہونے کی پالیسی اپنائی۔
’ایم ایم اے میں چھ جماعتیں تھیں اور اس وقت بھی پانچ جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں۔ جماعت اسلامی بائیکاٹ میں تنہا ہے۔ ہم نے جماعت اسلامی کی موجودگی میں اور قاضی صاحب کی زیر صدارت ایم ایم اے کے منشور کی منظوری دی، منشور کی منظوری الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تھی، بائیکاٹ کے لیے نہیں۔ یہ سوال تو قاضی صاحب سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ ایم ایم اے کا خیال کیے بغیر عمران خان اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ ملک کر بائیکاٹ کیوں کیا۔ اے پی ڈی ایم کا اجلاس بھی موجود تھا۔ان کو بھی نہیں پوچھا۔‘
ایک سامع نے ان خبروں کی وضاحت چاہی کہ مولانا نے سیاست میں کتنا پیسہ اور کیسے کمایا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’ کچھ کالم نگار
اتنا جھوٹ لکھتے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے۔ میرے ہاتھوں کو کرپشن کے پیسوں کی گرد تک نہیں لگی۔ میرے پاس وہی کچھ ہے جو میرے والد صاحب
چھوڑ کر گئے تھے۔ میں چندے کرتا ہوں، بھیک مانگتا ہوں۔ آپ جیسے لوگ پیسے دیتے ہیں تو الیکشن لڑتا ہوں۔‘