Friday, 08 February, 2008, 16:22 GMT 21:22 PST
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کی طرف سے پیش کیے گئے اہم نکات:
’جائے حادثہ کا تفصیلی معائنہ نہ کرنے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کی عدم دستیابی، کسی قابلِ شناخت لاش کے نہ ملنے، اور متاثرین کی شناخت کے عوامل جیسی سہولیات موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہوگیا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔
’اس کے باوجود جو بھی شواہد دستیاب ہیں وہ قابل بھروسہ نتیجہ اخد کرنے کے لیے کافی ہیں۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہم شواہد میں سے ایک بینظیر بھٹو کے سر کا ہسپتال میں لیا گیا ایکسرے ہے۔
’مس بھٹو کے جسم پر واحد بظاہر نشان ان کے سر کے دائیں جانب لگا ہوا بڑا زخم تھا۔
’ان کے جسم کے درمیان اور نیچے گولی لگنے کے امکانات کو آسانی سے خارج از امکان کیا جا سکتا ہے۔ یہ نتیجہ ان کی محفوظ بکتر بند گاڑی جس میں وہ حملے کے وقت سفر کر رہی تھیں کے جائزے کے بعد اور ان کے خاندان اور ہسپتال کے عملے کے ساتھ بات کر کے اخذ کیا گیا ہے۔‘
بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں حصہ لینے والے برطانوی حکومت کے پیتھالوجسٹ ڈاکٹر نیتھینیل کیری کہتے ہیں کہ: اس کیس میں موت کی وجہ بننے والی سر کی چوٹ کا ٹھوس جواز بم دھماکے کی شدت ہو سکتی ہے۔‘
ڈاکٹر کیری کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں محترمہ بینظیر بھٹو شدید سر کی چوٹ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ یہ زخم انہیں بم دھماکے کے نتیجے میں لگا اور گاڑی سے اوپر نکلنے والی کھڑکی پر کسی جگہ ان کا سر ٹکرایا‘۔ (نوٹ: گاڑی سے نکلنے کی کھڑکی کو اس وقت ’سن روف‘ بتایا گیا تھا)۔
رپورٹ میں اس تاثر کو بھی رد کیا گیا کہ حملے میں ایک سے زیادہ لوگ شریک تھے۔
’ملنے والے تمام شواہد سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ گولی چلانے اور خود کش حملہ کرنے والا ایک ہی شخص تھا۔‘
’میڈیا کی فوٹیج کے بغور معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ بندوق بردار گاڑی کے پیچھے موجود تھا اور اس نے بم دھماکے سے پہلے نیچے دیکھا تھا۔‘