Thursday, 07 February, 2008, 05:27 GMT 10:27 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت پنجاب نے جمعرات کو کئی اخبارات میں چار فروری کو راولپنڈی میں خودکش بم دھماکے میں ملوث مبینہ خودکش حملہ آور کی تصویر جاری کی ہے۔
ملزم کی شناخت سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر صوبائی حکومت نے دس لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے آر اے بازار میں چار فروری کی صبح اس مبینہ خودکش حملے میں ایک کرنل سمیت سات افراد ہلاک جبکہ درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
ماضی کے برعکس مبینہ خودکش حملہ آور کا چہرہ تصویر میں بظاہر دھماکے سے زیادہ متاثر معلوم نہیں ہوتا۔ ہلکی سے داڑھی اور مونچھ والا یہ شخص پچیس تیس سال عمر کا دکھائی دیتا ہے۔
حکومت نے فوجی ہیڈکواٹرز کے قریب ہونے والے اس حملے کی
تحقیقات کے لیے ایس ایس پی آپریشن یٰسین فاروق کی سربراہی میں ایک تفتیشی ٹیم بنا دی تھی جبکہ ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی
اپنے طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی میں آرمی میڈیکل کالج کے ڈاکٹرز اور طلباء سوار تھے جو کہ سی ایم ایچ میں اپنی کلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران راولپنڈی میں شدت پسندوں نے چھ مرتبہ فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ ستائیس دسمبر کو ملک کی سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حکام اس سے قبل بھی مبینہ خودکش حملہ آوروں کی تصاویر شائع کرواچکے ہیں لیکن اس سے شناخت میں کوئی خاص مدد نہیں ملی ہے۔
ادھر اطلاعات کے مطابق پولیس نے بدھ کو راولپنڈی میں آر اے بازار کے قریب کئی علاقوں میں گھر گھر تلاشی لی اور درجنوں مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیئے حراست میں بھی لیا۔