Thursday, 07 February, 2008, 10:47 GMT 15:47 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور کی ضلعی بار ایسوسی نے ان وکلاء کی رکینت منسوخ کردی ہے جو وکلا ء تنظیموں کے فیصلے کے باوجو اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لے رہے ہیں ۔
یہ فیصلہ جمعرات کو لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے کیا گیا۔ یہ قرارداد بار کے صدر منظور قادر نے پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ وکلاء تنظیموں نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود لاہور بار کے رکن وکلاء مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جو وکلاء تنظیموں کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
لاہور بار کے اجلاس سے لاہور ہائی کورٹ کے معزول جج جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے خطاب میں اس توقع کا اظہار کیا کہ ملک میں عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلاء کی جدوجہد کامیاب ہوگی۔
دوسری جانب سے پاکستان بار کونسل کے اعلان کے تحت پنجاب بھر کے وکلاء نےعدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی جلوس نکالے۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس کے بعد وکلاء نے جلوس نکالا جو ایوان عدل سے شروع ہوا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے ختم ہوگیا۔
ضلعی بار ایسوسی ایشن کا جلوس جب لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پہنچا تو ہائی کورٹ کے وکلاء بھی جلوس میں شامل ہوگئے۔ وکلاء کے جلوس
میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی ۔
![]() |
|
| لاہور میں وکلاء کی ریلی مال روڈ سے گزری |
مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر عدلیہ کے حق اور صدر پرویز مشرف کے خلاف عبارتیں درج تھیں جبکہ وکلاء نے پی سی او نامنظور اور زندہ ہیں وکلاء زندہ ہیں کے نعرے لگائے۔
جلوس کے راستے میں دکانیں کھلی رہیں اور مظاہرین مال روڈ پر مسلم لیگ قاف کے امیدواروں کے بینرز کو اتار کر پھاڑتے رہے۔
پنجاب اسمبلی کے سامنے وکلاء رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ وکلاء تحریک میں شامل ہوں۔ اس موقع پر مظاہرین نے بینظیر بھٹو کے چہلم کے سلسلہ میں ان کے لیے دعا کی جس کے بعد وکلاء پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔