http://bbc.com.im/urdu/

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’جج کی عدالت پر ہلہ‘: مقدمے درج

پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس حامد درانی کی عدالت پر مبینہ طورپر ہلہ بول کر کنڈے توڑنے کے الزام میں ہائی کورٹ کے پندرہ وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق جمعرات کی صبح پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کا ایک گروپ جسٹس حامد درانی کی عدالت کے سامنے جمع ہوا اور بعض وکلاء کو پیشہ وارانہ فرائص سے روکنے کی کوشش کی اور کار سرکار میں مداخلت کی۔

پولیس ذرائع کے مطابق وکلاء نے جسٹس حامد درانی کی عدالت کا کنڈا توڑا اور عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو وکلاء نوید مقصود اور سکینہ فدا ایڈوکیٹ مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں عدالت میں داخل ہورہے تھے کہ اس دوران وکلاء کا ایک گروپ آیا اور وہاں
احتجاج اور نعرہ بازی شروع ہو گئی۔

یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ اور سرحد بارکونسل کے وکلاء تین نومبر سے عدالتوں کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔

قبل ازیں صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی معزولی کے بعد پشاور میں وکلاء کی تنظیموں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔

وکلاء نے دھمکی دی تھی کہ اگر کوئی وکیل پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش ہوا تو ان کی ممبرشپ ختم کردی جائی گی۔

ادھر سرحد بارکونسل کے ممبر قیصر رشید خان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے بائیکاٹ کے سلسلے میں سرحد بارکونسل اور سرحد کی تمام ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنز کا ایک ہنگامی اجلاس جمعہ کو پشاور میں طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھنے یا اسے ختم کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔

واضح رہےکہ دو دن قبل ہائی کورٹ کے بعض وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی تھی جس میں وکلاء نے عدالتوں میں پیش ہونے کی صورت میں تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔