دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محسود قبائل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے علاقے میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جائے اور مسئلے کو جرگے کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پریس کانفرنس میں محسود امن کمیٹی کے مقامی سربراہ امیر زمان نے کہا کہ موجودہ کارروائی سے صرف بےگناہ شہری متاثر ہو رہے ہیں۔
امیر زمان اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر اور کاروبار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور اب بھی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محسود قوم نے چودہ رکنی کمیٹی بنائی ہے جو متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ کمیٹی ہزاروں متاثرین میں بستر، آٹا، چینی،گھی اور دیگر اشیاء خوردنوش تقیسم کر چکی ہے۔ان کے مطابق یہ امدد محسود کمیٹی نے اپنا چندہ جمع کر کے ممکن بنائی۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے عالمی اور بالخصوص پاکستانی امدادی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ متاثرین اور نقل مکانی کرنے والوں کی مالی
مدد کریں کیونکہ ایسے لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھی رہی ہے جن کی مدد محسود امدادی کمیٹی کی بس کی بات نہیں ہے۔
|
پکڑ دھکڑ نہ کریں
|
محسود کمیٹی کے ایک ممبر نور خان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے امدادی سامان آیا ہے لیکن ابھی تک کمیٹی کے حوالے نہیں کیا ہے۔ اسی طرح شہر سے باہر ایک کیمپ بنانے کی تجویز ہے لیکن ابھی تک اس پر کام شروع نہیں ہوا ہے۔
جنوبی وزیرستان سے پہنچنے والے متاثرین کی وجہ سے ڈیرہ اسماعیل خان میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ بعض لوگوں نے اخباری بیانات میں کہا ہے کہ ان لوگوں کی آمد سے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اس بارے میں محسود امن کمیٹی نے کہا کہ محسود قبائل پُرامن اور شریف شہری ہیں۔لسانی بنیاد پر اخباری بیانات ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ تین دنوں سے فائربندی ہےلیکن نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔