Tuesday, 05 February, 2008, 17:21 GMT 22:21 PST
بیورو رپورٹ
اسلام آباد
پاکستان کے سابق فوجی سربراہان نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ان سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ہونے والے سیمینار میں سابق جرنیلوں سمیت ریٹائرڈ افسران اور فوجیوں نے بھی شرکت کی اور بعد میں صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کے خلاف ریلی نکالی۔
حمید گل نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے کہا کہ یہ کسی بھی قوم کا بنیادی حق ہے جس سے اسے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے صدر ریٹائرڈ پرویز مشرف اور سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے اعلان اسلام آباد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستان کے اصولی موقف سے ہٹ کر ’آؤٹ آف باکس سالوشن‘ تلاش کرنے کی بات کی گئی۔
ان کے مطابق یہ اعلان کرنے والے کشمیر کے جغرافیے سے ناواقف ہیں اس لیے انہوں نے مشترکہ انتظام کی تجویز دی جس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت مل کر چین کا مقابلہ کریں۔
حمید گل نے کہا کہ سن اٹھانوے میں پاکستان کے ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان اور بھارت میں دفاعی توازن پیدا ہوگیا تھا لیکن کارگل
کی لڑائی کے بعد یہ توازن ختم ہوگیا جس کے ذمہ دار صدر جنرل مشرف ہیں ان کے مطابق جس کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا وہ پاکستان
کا صدر بن گیا ہے۔
|
مشرف کا کورٹ مارشل
|
انہوں نے کہا کہ بندوق کی بجائے اس مسئلے کوسنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بغیر کسی معاہدے کے جنگ میں جانے کی وجہ سے پاکستان کو امن وعامہ کے حوالے سے اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔
بعد میں سیمینار کے شرکاء نے ریلی نکالی اور سابق جرنیلوں نے کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی ۔
اس موقع پر گو مشرف گو کے نعرے لگائے گئے ۔
سابق جرنیلوں کی جانب سے صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف پراگر چہ کئی مرتبہ تنقید کی گئی ہے تاہم اس دفعہ کھل کر نہ صرف تنقید کی گئی ہے
بلکہ سابق جرنیلوں نے مشرف مخالف ریلی بھی نکالی ہے۔