Sunday, 27 January, 2008, 05:52 GMT 10:52 PST
ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر مشرف نے حال ہی میں افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کی کارروائیاں روکنے کے لیے زیادہ امریکی کردار کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہ درخواست پاکستان کے دورے پر آئے امریکی خفیہ اداروں کے دو سینئر اہلکاروں نے اس ماہ کے شروع میں کی تھی۔
اپنے یورپ کے دورے کے دوران صدر مشرف نے بارہا کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فوج کو کسی غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
اخبار کے مطابق پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد پر امریکی تشویش روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
گیارہ جنوری کو اخبار ’دی سٹریٹ ٹائمز آف سنگاپور‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا تھا کہ اگر امریکی فوجی قبائلی علاقوں میں قدم رکھیں گے تو انہیں حملہ آور سمجھا جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر نے سنگاپور کے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر وہ بغیر اجازت آئے تو یہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ جو کوئی بھی ہمارے پہاڑوں میں آئے گا وہ اس دن کو پچھتائے گا۔