Saturday, 26 January, 2008, 18:58 GMT 23:58 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے تحریری طور پر یہ مطالبہ نہیں کیا ہے کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں اور یہ کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سندھ میں حساس پولنگ سٹیشنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے سنیچر کو کراچی میں صوبائی حکام سے ملاقات کی اور تبادلوں اور ترقیوں کی شکایت پر تبادلہ خیال کیا، بعد میں انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ الیکشن کے روز پولنگ سٹیشن کا ماحول پر امن ہو، ووٹر اور الیکشن عملہ خود کو محفوظ سمجھے اور سامان کی ترسیل اور واپسی باحفاظت ہو۔
نگران صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے تبادلوں کے بارے میں کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ ستائیس دسمبر کے واقعہ کے بعد جو ڈی پی اوز اور ڈی سی اوز اہلیت کا مظاہرہ نہیں کرسکے تھے صرف انہیں تبدیل کیا گیا ہے مگر ان کے تبادلے بھی واپس کیے جا چکے ہیں، اس طرح سندھ سیکرٹریٹ میں ایک ونگ سے دوسرے ونگ میں تبادلے ہوئے ہیں جن کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
نگران حکومت کی جانب سے مختلف محکموں میں بھرتیوں کی شکایت پر انہوں نے صوبائی الیکشن کمشنر کو حقائق جاننے کی ہدایت کی۔
بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات فوج کی نگران میں کرنے کی مطالبے پر کنور دلشاد نے کہا کہ ایسی خبریں انہوں نے صرف اخبارات
میں پڑھی ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت نے تحریری طور پر یہ مطالبہ نہیں کیا ہے، اگر کسی نے کیا تو پھر اس پر غور کیا جائے گا۔
|
حساس سٹیشن تین سے پانچ ہزار
|
دوسری جانب سندھ کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری عارف احمد خان کا کہنا ہے کہ فوج پولنگ سٹیشنوں کے نہ تو اندر نہ ہی باہر تعینات کی جائے گئی الیکشن کے دن فوج حساس علاقوں میں موجود ہوگئی جسے رٹرننگ افسر کی درخواست پر بہ وقت ضروت طلب کیا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو روز کے اندر حساس پولنگ سٹشینوں کا حتمی فیصلہ ہوجائیگا۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ کی جانب سے انتخابات میں امن امان کی صورتحال پرامن رکھنے کے سیاسی جماعتوں سے اجلاس کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے مشورے لیے گئے۔