Saturday, 26 January, 2008, 15:37 GMT 20:37 PST
جمعے کی شام اپنے یورپی ممالک کے دورے کے دوران لندن میں صدر جنرل پرویز مشرف ایک سینئر پاکستانی صحافی کے سوال کو دیر تک نہیں بھولے اور اس کی بازگشت ان کی اس تقریر میں بھی سنائی دی جو انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقات میں کی۔
پاکستان کو ’بدنام کرنے والے عناصر‘ کے خلاف صدر مشرف کی برہمی اتنی شدید تھی کہ ہلکی پھلکی گفتگو میں غصے نے ان کا دامن نہ چھوڑا اور انہوں نے اس قسم کے لوگوں کی ’پٹائی‘ کے ترغیب بھی دے ڈالی۔
جنرل مشرف نے کمیونٹی سے اپنی تقریر میں اس پر زور دیا کہ پاکستان میں حالات اتنے برے نہیں ہیں جیسے کہ میڈیا پر دکھائے جا رہا ہے۔
تقریر کے دوران انہوں نے ان صحافیوں پر سخت تنقید کی جو بقول ان کے پاکستان کو بدنام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تقریب میں آنے سے کچھ دیر پہلے دفاعی امور کے ایک تھنک ٹینک ’رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ میں تھے جہاں پر ایک پاکستانی صحافی نے اسی طرح کی حرکت کی تھی۔
انہوں نے مذکورہ صحافی کا نام تو نہ لیا لیکن ان کا اشارہ واضح طور پر پاکستانی روزنامہ ڈان کے نامہ نگار ایم ضیاءالدین کی طرف
تھا جنہوں نے تھنک ٹینک سے ان کے خطاب کے بعد صدر مشرف سے برطانیہ میں دہشتگردی کے مطلوب ملزم راشد راؤف کے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں
کے ہاتھوں سے فرار ہونے کے بارے میں ایک سوال پوچھا تھا۔
|
پاکستان کا میج خراب
|
جمعہ کی شام تھنک ٹینک میں صدر مشرف کے خطاب کے بعد صحافیوں کے سوال و جواب کے دوران صدر پرویز مشرف پہلے تو اس وقت چِڑ گئے جب سکائی ٹی وی کے نمائندے نے ان سے پوچھا کہ کہ کیا انتخابات واقعی منصفانہ ہوں گے؟ صدر مشرف کا جواب تھا: ’ آپ مجھے سرٹیفیکیٹ دیں تو میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں۔‘
اس کے بعد جب ایم ضیاء الدین نے ان سے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے سوال کیا تو صدر مشرف شدید برہم ہوگئے۔ جب ضیاء
الدین نے پوچھا کہ جب راشد رؤف جیسا ایک مشتبہ ’ہائی پروفائل‘ شدت پسند جو کہ برطانوی شہری تھا اور برطانیہ مطالبہ کر رہا تھا
کہ اسے اس کے حوالے کیا جائے وہ دن دہاڑے بھاگ جاتا ہے تو لوگ یہ شک کرتے ہیں کہ پاکستان میں یہ اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے جوہری
ہتھیاروں کو بچا لے گا تو صدر مشرف نے سینیئر صحافی کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ آپ جیسے لوگ ہی ہیں جو افواہیں
پھیلاتے ہیں۔ اور پھر غیر ملکی ذرائع ابلاغ آپ کی افواہوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ آپ خفیہ اداروں پر الزامات لگا کر افواہیں پھیلا رہے
ہیں۔‘
ہال میں آگے بیٹھے مسلم لیگ قاف کے چھ سات نوجوانوں نےوقتاً فوقتاً ان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ جب پاکستانی ہائی کمیشن کے منتظمین
سے پوچھا گیا کہ کیا ایسی تقریب میں اس طرح کے نعروں کی اجازت دینا مناسب تھا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دینا چاہا اور ان نوجوانوں
سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔