http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 25 January, 2008, 14:11 GMT 19:11 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وجاہت کی حراست پر احتجاج

پاکستانی حکومت نے قائم مقام برطانوی ہائی سے چوہدری شجاعت حسین کے بھائی وجاہت حسین کو لندن میں حراست میں رکھنے کے واقعہ پر احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جمعہ کے روز قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر رے کائلز کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ اس موقع پر قائم مقام سیکرٹری خارجہ معیز بخاری نے ان سے کہا کہ وہ ان وجوہات کی وضاحت کریں جن کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ اس کے علاوہ برطانوی ہائی کمشنر سے کہا گیا کہ وہ واقعے کی جامع تحقیقات کروائیں اور اس کی رپورٹ بھی حکومت پاکستان کو دیں۔

چودھری وجاہت کی گرفتاری و رہائی

قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط فہمی کی بنا پر پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کمیشن کے اہلکاروں نے چوہدری وجاہت حسین کی فیملی کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان افراد کے ویزے ٹھیک ہیں اور وہ جب چاہیں برطانیہ کا دورہ کرسکتے ہیں۔

اس دوران حکومت پاکستان نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے بھی کہا ہے کہ وہ برطانوی حکام کے ساتھ مل کر واقعے کی تحقیقات کریں۔

کوئی جواب نہیں دیا
 واقعہ کے بارے میں چوہدری برادران اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید سے بی بی سی نے یہ جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ اس واقعہ پر پارٹی کا ردعمل کیا ہوگا لیکن ان میں سے کوئی بھی جواب دینے کے لیے موجود نہیں تھا
 

ادھر پاکستان کے مختلف اخبارات نے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے بھائی اور گجرات سے رکن قومی اسمبلی چوہدری وجاہت حسین اور ان کے رشتہ داروں کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کرنے کے واقعہ کو نمایاں کوریج دی ہے۔

اخبارات میں یہ بات نمایاں طور پر شائع کی گئی ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے بھی شامل تھے اور ان افراد کو سپین پولیس کی اطلاع پر برطانوی حکام نے ائرپورٹ پر جہاز کے اندر ہی سے حراست میں لیا تھا۔

اس واقعہ سے ایک روز قبل سپین سے پولیس نے بارہ پاکستانیوں کو گرفتار کیا تھا جن پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث تھے۔

ابھی تک چوہدری وجاہت حسین سمیت پانچ پاکستانیوں کی حراست ایک معمہ بنی ہوئی ہے اور اس بارے میں نہ ہی برطانوی حکام نے اور نہ ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ وضاحت دی ہے کہ ان افراد کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں رکھا گیا۔

اس کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت اس بارے میں برطانوی حکام کے ساتھ احتجاج کرے گی۔ اس واقعہ کے بارے میں چوہدری برادران اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید سے بی بی سی نے یہ جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ اس واقعہ پر پارٹی کا ردعمل کیا ہوگا اور وہ کیا اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ذمہ دار شخص جواب دینے کے لیے موجود نہیں تھا۔ برطانوی ہائی کمیشن پہلے ہی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ گجرات میں وجاہت فورس کے نام سے ایک جماعت بھی بنائی گئی ہے جو مسلم لیگ (ق) کی ذیلی تنظیم ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ چوہدری وجاہت حسین اس فورس کے سربراہ ہیں اور وہ صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی انتخابی مہم کے انچارج ہیں۔