Thursday, 24 January, 2008, 10:30 GMT 15:30 PST
اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر نے امریکی صدر جارج بُش کی افغانستان میں پوست کی کاشت کا خاتمہ کرنے کی کوششوں پر نکتہ چینی کی ہے۔
رچرڈ ہولبروک نے اس سلسلے میں امریکی پالیسی کو نہایت ناکام کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس پروگرام پر سالانہ ایک بلین ڈالر خرچ رہی ہے جو کہ درحقیقت کسانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ طالبان کا ساتھ دیں۔
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے منشیات و جرائم کے مطابق افغانستان کے چونتیس میں سے صرف تیرہ صوبے پوست کی کاشت سے پاک ہیں اور پوست کی کاشت ملک کے جنوبی علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے اور یہ وہی علاقہ ہے جہاں امن و امان کی صورتحال نہایت خراب ہے۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں ایک کالم میں رچرڈ ہولبروک نے کہا کہ امریکی پالیسی غلط ہونے کا ایک ثبوت صدر بُش کی افغانستان میں پوست کی فصل پر ہوائی سپرے کی کھلی آمادگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بُش کا یہ بیان امریکہ کی انسداد منشیات کے روک تھام کے پروگرام کی ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
یاد رہے کہ صدر بُش پوست کی فصل پر ہوائی سپرے کے معاملے پر اسی وقت پیچھے ہٹے تھے جب افغانستان اور دیگر ممالک نے کہا کہ اس وجہ سے کابل اور واشنگٹن کے خلاف شدید ردِ عمل ہوگا۔
رچرڈ ہولبروک نے لکھا ہے کہ اس کے علاوہ بھی یہ سالانہ ایک بلین ڈالر کا پروگرام امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تاریخ میں سب سے ناکام اور بے سود پروگرام ہے۔’یہ صرف پیسے کی بات نہیں۔ یہ پروگرام اصل میں طالبان اور القاعدہ کے ساتھی جرائم پیشہ لوگوں کو مضبوط کر رہا ہے۔‘