عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کی نگران حکومت نے انیس سو چورانوے کے ’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘ میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق ماتحت قاضی کورٹس کے فیصلوں کو فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کیا جاسکے گا۔
نگران حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد شورش زدہ علاقے سوات میں عسکریت پسندی سے نمٹنا ہے۔
صوبہ سرحد کے نگران وزیر قانون میاں محمد اجمل نے بی بی سی کو بتایا کہ شرعی نظام عدل ریگولیشن میں ترامیم مالاکنڈ کے عوام کے مطالبے پر کی جا رہی ہیں۔ان کے بقول ترمیمی مسودہ کا مقصد اس بات کو ممکن بنانا ہے کہ کسی بھی قاضی کورٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی بجائے فیڈرل شرعی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے اور ایسے مقدمات کے فیصلے جلد از جلد ہو سکیں۔
انکے مطابق’ اس سے قبل ملاکنڈ میں قاضی کورٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاتا تھا جس پر لوگوں کو شدید اعتراض تھا لہذا حکومت نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اپیل کا حق دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ترمیمی مسودہ پر دستخط کے بعد شرعی کورٹس کے جج صاحبان سول مقدمات کو ساٹھ جبکہ فوجداری مقدمات کو تیس دن کے اندر نمٹانے کے پابند ہوں گے۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ریگولر قانون ہی نافذ ہوگا تاہم جج صاحبان کوئی بھی فیصلے سنانےمیں قرآن اور سنت کے احکامات کو زیادہ اہمیت دیں گے۔
میاں محمد اجمل کا مزید کہنا تھا کہ جج صاحبان معاون قاضیوں اور شرعی وکلاء کی رہنمائی میں فیصلے سنائیں گے تاہم وہ ان کے تجاویز
ماننے کے پابند نہیں ہونگے ۔ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی مسودہ کو دستخط کے لیے بہت جلد گورنر سرحد کے پاس بھیج دیا جائے گا۔
![]() |
شرعی نظام عدل ریگولیشن میں ترمیم اور اس کے نفاذ کا مقصد وہاں پر حکومت کے خلاف برسرپیکار عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس کے بعد اس قسم کا مطالبہ صوبہ سرحد کے باقی علاقوں میں کیا جائے گا اور یوں پھیلتے پھیلتے یہ بات پنجاب اور سندھ تک پہنچ جائے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ نگران حکومت کا کام انتخابات کرانا ہے نہ کہ امتیازی قوانین میں ترامیم کرکے انتخابات کے موقع پر اختلافات کو ہوا دینا ہے۔اقبال حیدر کا دعویٰ ہے کہ سوات اور آس پاس کے علاقوں میں عسکریت پسندی کے بڑھنے کی وجہ انیس سو چورانوے میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ اور انیس سو ننانوے میں اس میں ہونے والی ترامیم ہیں۔
نگران صوبائی وزیر قانون میاں محمد اجمل نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ شرعی نظام عدل ریگولیشن
میں ترمیم کا مقصد متوازی عدلیہ کو وجود میں لانا نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے باقی حصوں میں موجود عدالتی نظام کا ہی حصہ ہوگا۔
|
حکومت کا جواب
|
اس حکومتی اقدام سے حالات قدر معمول پر آگئےتھے تاہم بعد میں مولانا صوفی محمد نے شرعی کورٹس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ریگولیشن میں مزیدترامیم کرانے کا مطالبہ شروع کردیا۔اگرچہ حکومت نے انیس سو ننانوے میں قانون میں ترمیم کرتے ہوئے قاضی کورٹس کو انتظامیہ کی بجائے ہائی کورٹ کے ماتحت کیا لیکن اس کے باوجود کالعدم نفاذ شریعت محمدی کی تشفی نہیں ہوسکی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سوات میں مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں اٹھنے والی عسکریت سے نمٹنے کے لیے حکومت
نے قانون میں مزید ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل بعض حکومتی اہلکاروں نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں
کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے اس یر رہنماء مولانا صوفی محمد کے ساتھ پشاور کے ایک ہسپتال میں کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں جس کے دوران
مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ شرعی نظام عدل ریگولیشن میں ترامیم کرنے اور علاقے میں مبینہ شدت پسندی پر قابو پانے کے سلسلے میں تفصیلی
بات چیت ہوئی تھی۔