Monday, 21 January, 2008, 11:43 GMT 16:43 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کے الزام میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے تین ملزمان نے فیصلے کے خلاف پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم جہادی تنظیم ’حرکت المجاہدین العالمی‘ کے امیر سمیت تین افراد کو صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کے الزام میں پندرہ جنوری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ اسی مقدمہ میں ملوث تین دیگر افراد کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے سزایافتہ مجرمان حرکت المجاہدین العالمی کے امیر محمد عمران، نائب امیر محمد حنیف اور محمد اشرف نے اپنے وکیل عبدالوحید کٹپر کے ذریعے پیر کو عدالت عالیہ میں اپیل جمع کراتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماتحت عدالت نے ان کے دلائل کو اہمیت نہیں دی لہذٰا ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
پولیس کا مؤقف تھا کہ ملزمان نے صدر مشرف کی ’افغان پالیسی‘ سے اختلاف کر تے ہوئے حرکت المجاہدین العالمی کے نام سے ایک تنظیم
بنائی ہوئی ہے۔
پولیس کا دعویٰ تھا کہ ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ چھبیس اپریل سن دو ہزار دو کو جب صدارتی ریفرنڈم کے سلسلے میں صدر مشرف کراچی
آئے تھے، تو شاہراہ فیصل پر بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی کھڑی کی گئی تھی لیکن اس کے الیکٹرک سوئچ کے بروقت کام نہ کرنے کی وجہ
سے دھماکہ نہیں ہوسکا۔
![]() |
|
| ملزمان نے حرکت المجاہدین العالمی کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے: پولیس |
سندھ پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے نو اور دس محرم کو جلوسوں پر دستی بموں سے حملے کرنے، پاکستان فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور سبیلوں میں زہر ملانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ادھر آٹھ محرم یعنی جمعہ کو پولیس اور ایک وفاقی ادارے کے اہلکاروں نے کراچی کے مضافاتی علاقوں میں چھاپے مارکر پانچ ملزمان کو مبینہ مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ گرفتار ہونے والے افراد کے نام سید محمد وسیم عرف عمران، محمد اعجاز عرف عبدالرحمان، جمیل احمد عرف وزیر اکبر، عزیز احمد عرف محمد خان اور محمد حامد عرف قاسم بتائے جاتے ہیں۔ سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں اظہر فاروقی نے الزام لگایا تھا کہ ملزمان کا تعلق حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد الاسلامی اور جیش محمد سے ہے ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ عزیز احمد خودکش حملے کی تیاری کر رہے تھے۔
پولیس نے کسی گروہ سے سائنائیڈ زہر بھی پہلی مرتبہ برآمد کیا ہے۔ آئی جی سندھ پولیس کا دعویٰ تھا کہ ملزم اگر یہ مبینہ زہر پانی
کی سبیلوں میں ملا دیتے تو اس سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ تھا۔