Monday, 21 January, 2008, 09:24 GMT 14:24 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ بگٹی میں دو علیحدہ علیحدہ دھماکوں میں نیم فوجی دستے کا ایک لانس نائک ہلاک اور پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ مچھ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو آباد کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔
ڈیرہ بگٹی کے قریب مہندرانی پٹ میں سندھ رینجرز کے اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا۔ سوئی سے پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا جس میں لانس نائک محمد نواز ہلاک اور سپاہی جہانزیب زخمی ہو گیا۔
دوسرے واقعہ میں پیر کوہ کے قریب نا معلوم افراد نے فرنٹیئر کور کے ایک قافلے پر حملہ کیا جس میں کم سے کم چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں
درین اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلفون پر دونوں حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سےقبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکے ریموٹ کنٹرول بم سے کیے گئے اور ان میں سیکیورٹی فورسز کا جانی نقصان کہیں زیادہ ہوا ہے۔
سرباز بلوچ کے مطابق دوسرے حملے میں ایک کیپٹن بھی ہلاک ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر مچھ کے علاقہ میں رات گئے نا معلوم افراد نے بازار میں ایک دکان پر فائرنگ کی جس سے ایک ریٹائرڈ استاد کے دو بیٹے ارشد محمود اور امجد محمود ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ کے خلاف آج مچھ میں بازار کمیٹی کی اپیل پر ہڑتال کی جارہی ہے۔
مچھ کے تحصیل ناظم رئیس غلام سرور کرد نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح بے گناہ افراد پر حملے شدید زیادتی ہے اور علاقے کے لوگ اس خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
مچھ کو بلوچستان کا ایک پرامن علاقہ سمجھا جاتا تھا لیکن کچھ عرصہ سے یہاں بم دھماکوں اور اس طرح کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ روز پہلے دو دنوں میں بارودی سرنگوں کے دو دھماکوں میں کوئلے کے دو کان کن ہلاک اور چار کان کنوں سمیت سات افراد زخمی ہو گئے تھے۔ مقامی سطح پر تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے افراد نے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔