Sunday, 13 January, 2008, 11:57 GMT 16:57 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں فوجی حکمرانی کے دوران اعلیْ عدلیہ کے ججوں کو پی سی او یعنی عبوری آئینی فرمان کے ذریعے ان کے عہدے سے الگ کرنا کوئی نئی بات نہیں۔
لیکن تین نومبر کو جاری ہونے والے پی سی او کے خلاف معزول ججوں کی بھرپور مزاحمت اور ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی جانب سے اعلیْ عدالتوں کے مسلسل بائیکاٹ نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔
صدر پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں اپنی اہلیت کے بارے میں درخواستوں کی سماعت کےدوران تین نومبر کی شام ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کیا اور عبوری آئینی فرمان کے ذریعے پاکستان کے چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری سمیت اعلیْ عدلیہ کے ججوں کی بڑی تعداد کو برطرف کردیا۔
وکلاء گزشتہ دس ماہ سے مسلسل احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں اور تحریک میں وہ وکلاء بھی شامل ہیں جو ماضی میں وکلاء تنظیموں کی
سیاست اور سرگرمیوں سے بالکل الگ تھلگ رہے ہیں۔
|
|
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی پر ملک بھر کے وکلاء سراپا احتجاج بن گئےاور سڑکوں پر پولیس کے تشدد کا نشانہ بنے۔
وکلاء کی تحریک کے نتیجے میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری تو اپنے منصب پر بحال ہوگئے لیکن وکلاء کے احتجاج اور عدالتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے عام وکلاء کا روزمرہ کا کام بری طرح متاثر ہوا اور وہ عدالتوں سے مسلسل غیر حاضری کے نتیجے میں مالی مشکلات کا شکار ہونے لگے۔
صدر پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے اور پی سی او کے تحت اعلیْ عدلیہ کے ججوں کو ان کے عہدوں سے فارغ کرنے پر وکلاء دوبارہ جدوجد کے لیے میدان میں اتر آئے۔
اس پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کے انیس ججوں میں سے صرف پانچ ججوں نے حلف اٹھایا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے پینتالیس کےقریب ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔
وکلاء اور ججوں کی طرف سے اس نوعیت کا رد عمل پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا۔
ججوں کی بحالی کی تحریک میں وکلاء رہنما اعتزاز احسن ، علی احمد کرد، جسٹس(ر)طارق محمود تین نومبر کی شام سے نظربند ہیں۔
جیل میں قید کے دوران سپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر اے ملک موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہوگئے۔
پانچ نومبر کو وکلاء کے پرامن احتجاج کے بعد پولیس نے لاہور ہائی کورٹ بار میں داخل ہوکر وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا اور سینکڑوں وکلاء کو، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، حراست میں لیا گیا۔
تحریک میں سینئیر ، جونیئر، مرد اور عورت کے امتیاز کے بغیر وکلاء نے بھرپور حصہ لیا ۔ بہت سے وکلاء عدالتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے شدید اقتصادی دشواری کا شکار ہیں کیونکہ پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی وجہ سے وہ تین نومبر سے مسلسل ہڑتال پر ہیں۔
پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان کا کہنا ہے کہ وکلا کے اعلی’ عدالتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے سائلوں اور وکلاء کو مسائل کا سامنا ہے لیکن وکلاء ایک بڑے مقصد کے لیے یہ قربانی دے رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وکلا نے ہمیشہ فوجی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی ہے لیکن پہلی مرتبہ عدلیہ نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کے بقول
ماضی میں وکلاء کو پہلے عدلیہ سے لڑنا پڑتا تھا کیونکہ عدلیہ فوجی حکمرانوں کے لیے ڈھال بن جاتی تھی۔
حامد خان نے کہا کہ ’ راتوں رات کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوتی ۔ وکلا بھی ایک بڑی جنگ لڑرہے ہیں اور قوم تبدیلی کی طرف چل پڑی
ہے‘۔
پانچ نومبر کو پی سی او کے خلاف احتجاج کی پاداش میں گرفتار ہونے والے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل انور کمال کا کہنا ہے کہ
جس ملک کا چیف جسٹس نظر بند ہو اور آئین کی بات کرنے پر وکلاء کے خلاف دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمے درج ہوں، وہاں کے حالات
پر کیا کہا جاسکتا ہے۔
|
|
گزشتہ سال کے اوئل میں برطانیہ سے قانون کی تعلیم حاصل کر کے واپسی پر اپنا نیا چیمبر بنانے والے نوجوان وکیل فیصل محمود کا وکلاء تحریک کے بارے میں کہنا ہے کہ نو مارچ سے وہ پیشہ وارنہ مقاصد تو حاصل نہیں کرسکے لیکن یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ وہ ایک نیشنل کاز کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کی وجہ سے انہیں اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے اور اپنے ذاتی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے گزارہ کر رہے ہیں۔ فیصل محمود، جو پانچ نومبر کو ہائی کورٹ سے گرفتار ہوئے، کہتے ہیں کہ پولیس نے وکلاء کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا۔
لاہور کے ایک وکیل منظور ملک، جو وکلاء کی سیاست سے ہمیشہ الگ رہے ہیں، وہ بھی تحریک میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی بائیکاٹ سے وکلاء کو نفسیاتی اور مالی پریشانی کا سامنا ہے لیکن یہ سب ایک بڑے مقصد کے لیے کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء ملک میں آزاد عدلیہ چاہتے ہیں جس کا فائدہ وکلا سے زیادہ عام آدمی ہوگا۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ وکلاء کی تحریک کامیاب ہوگی اور تین نومبر سے پہلی والی عدلیہ بحال ہوگی۔