http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 13 January, 2008, 13:13 GMT 18:13 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

کالام میں برف باری، سڑکیں بند

صوبہ سرحد کی وادی سوات میں شدید برف باری کی وجہ سے کالام کا پہاڑی علاقہ ملک کے دیگر حصوں سے ایک ہفتہ سے کٹا ہوا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی قلت شروع ہوگئی ہے۔

کالام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل برف باری ہو رہی ہے جس سے سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔

 اب تک آٹھ فٹ برف پڑچکی ہے اور علاقے میں کھانے پینے کے سامان کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ادویات کی بھی شدید قلت ہے جس سے درجنوں بچے نمونیا اور دیگر کئی قسم کے بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں
 
حبیب اللہ ثاقب

یونین کونسل کالام کے ناظم حبیب اللہ ثاقب نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک آٹھ فٹ برف پڑچکی ہے اور علاقے میں کھانے پینے کے سامان کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں ادویات کی بھی شدید قلت ہے جس سے درجنوں بچے نمونیا اور دیگر کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کےلیے سخت سردی اور برف باری میں آٹھ آٹھ گھنٹے پہاڑی راستوں پر پیدل چلنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ایک ہفتہ تک یہ صورتحال جاری رہی تو علاقے میں جانی نقصانات بھی ہوسکتے ہیں۔

کالام میں مقامی لوگوں نے اتوار کی صبح ایک احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ علاقے کی سڑکیں فوری طور پر ٹریفک کےلیے کھول دی جائیں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے علاقے میں غذائی اشیاء پہنچائی جائیں۔

مقامی صحافی رحمت دین صدیقی کے مطابق بحرین سے کالام تک تقریباً 35 کلومیٹر سڑک مختلف مقامات پر برفانی تودے گرنے کی وجہ سے بند پڑی ہے۔

’سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے کالام کی تقربناً نوے ہزار آبادی گزشتہ دس دنوں سے گھروں کے اندر محصور ہے۔‘

سوات کے ضلعی رابطہ افسر ارشد مجید کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے سڑک کھولنے کےلیے تین بلڈوزر کالام بھیج دیے گئے ہیں۔ تاہم ڈی سی او نے اس بابت مزید بات کرنے سے انکار کیا۔

کالام کا شمار ملک کی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے۔