Saturday, 12 January, 2008, 00:55 GMT 05:55 PST
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ پاکستان کی مزید امداد نہیں کرنا چاہتا تو اسے مدد کے لیے دوسرا حلیف تلاش کرنا ہو گا۔
فرانسیسی اخبار’لی فگارو‘ کو انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ پر اثر پڑے گا۔
صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’ گزشتہ چھ برس کے دوران ہمیں(امریکہ کی جانب سے) کل نو ارب ڈالر کے قریب ملے ہیں جن میں سے نصف سے زائد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔ اگر امریکی مزید امداد نہیں کرنا چاہتے تو انہیں دوسرا حلیف تلاش کرنا ہوں گا لیکن خیال رہے کہ اس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی‘۔
صدر مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت امریکی امداد کے بغیر بھی اپنے پیروں پر کھڑی رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر امداد نہ ملی تو پاکستان ختم ہو جائے گا؟ ہمارے معاشی حالات اب بہتر ہیں‘۔
پاکستان میں خودکش حملوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف القاعدہ کی مہم ہے تاہم’ ان کے پاس اتنی قوت نہیں کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کر سکیں۔ ان کے خود کش حملوں سے عوام کی دل شکنی ہوتی ہے اور ملک میں بے چینی پھیلتی ہے لیکن پاکستان کسی طرح بھی انتشار کا شکار نہیں ہے‘۔
ادھر امریکی فوج کے اعلٰی افسر ایڈمرل مائیکل ملن نے کہا ہے کہ القاعدہ کا پاکستان کے قبائلی علاقوں کو محفوظ پناہ گاہ کےطور پر استعمال ’باعثِ تشویش‘ ہے لیکن اس سے نمٹنا پاکستان کا ہی کام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ’ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور یقینی طور پر یہ صدر مشرف ان کے مشیروں اور ان کی فوج کا ہی کام ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹے‘۔
یاد رہے کہ پاکستانی صدر نے جمعرات کو سنگا پور کے ایک روزنامے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی علاقوں میں انتہاپسندوں کے خلاف اتحادی افواج کی کارروائی پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگی اور اسے ملکی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہاں اس وقت تک کوئی نہیں آئے گا جب تک ہم انہیں آنے کو نہیں کہیں گے اور ہم نے انہیں ایسا کچھ نہیں کہا ہے‘۔