Friday, 11 January, 2008, 08:44 GMT 13:44 PST
بیورو رپورٹ
اسلام آباد
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ نئی منتخب حکومت نے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا رویہ نہ اپنایا اور ان کے مواخذے کی کوشش کی تو وہ مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔
سنگا پور کے ایک روزنامے کو انٹرویو میں صدرمشرف نے کہا ہے کہ پاکستانی علاقوں میں انتہاپسندوں کے خلاف اتحادی افواج کی کارروائی پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگی اور اسے ملک کی سا لمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی علاقوں میں غیر ملکی افواج کی جانب سے کوئی کارروائی ہوئی تواس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
صدر پرویز مشرف نے امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی جانب سے پاکستان کے جوہری اثاثوں کی نگرانی کی تجویز کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاید ہیلری کلنٹن کو معلوم نہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی نگرانی کا نظام کس قدر مضبوط ہے ۔
صدر پرویز مشرف نے جمعرات کو ٹیلی کاسٹ ہونے والے پی ٹی وی پروگرام ’ایوان صدر سے‘ میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ آئندہ عام انتخابات شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انداز میں ہوں گے اور اس سلسلے میں موثر اور جامع اقدامات کے ذریعے دھاندلی کے امکانات ختم کر دیے گئے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے بلدیاتی ادارے معطل کرنے کا مطالبہ بلاجواز ہے۔