Thursday, 10 January, 2008, 14:51 GMT 19:51 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے بعض سرکردہ شہریوں پر مشتمل ایک گروپ نے انتخابات سے پہلے جاری کیے گئے اپنے سروے میں قبل از انتخاب عمل کو انتہائی غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
گروپ میں سابق جج، جرنیل، سینئر بیوروکریٹ، صحافی اور شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کلیدی عہدوں پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘ کے تحت کام کرنے والے اس گروپ نے پاکستان میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومتی انتظامات، عدلیہ کی آزادی، ضلعی حکومتوں کی غیر جانبداری، میڈیا کی آزادی سمیت نو اہم امور کا جائزہ لے کر اپنی سروے رپورٹ مرتب کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ آزاد نہیں، نجی میڈیا پر کڑی پابندیاں ہیں اور ملک میں امن و امان کا ماحول خراب ہے، ایسے میں انتخابات ہرگز شفاف نہیں ہوسکتے۔
انتخابی عمل کو مانیٹر کرنے والی سرکردہ شخصیات کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے کا عمل ہی ایسا غیر منصفانہ ہے کہ اب پولنگ والے دن اور اس کے بعد سابقہ حکمراں اتحاد کو ہیر پھیر کی ضرورت بظاہر کم رہ جاتی ہے۔
لیکن گروپ نے خبردار کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل، ملک میں موجود شدید گندم اور بجلی کے بحرانوں کی وجہ سے اگر سابقہ حکومتی اتحاد کی ساکھ کو دھچکہ لگا اور بظاہر ایسا نظر بھی آتا ہے تو پھر انتخابات کے باقی مرحلوں میں بھی ان کی ہیر پھیر اور دھاندلی کے امکانات اور بھی وسیع ہوجائیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو بار سپریم کورٹ پر حملہ کیاگیا تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ صدر مشرف نے سیاسی جماعتوں کے مشورے کے بغیر چیف الیکشن کمشنر کو اپنی صوابدید پر مقرر کیا۔
رپورٹ کے مطابق ضلعی ناظمین جو کھل کر مسلم لیگ (ق) کی حمایت کرتے رہے ہیں وہ اب بھی موجود ہیں، نگران حکومت میں اسی فیصد افراد
سابقہ حکومتی اتحاد سے تعلق رکھتے ہیں، من پسند سرکاری ملازمین کی اہم عہدوں پر تقرریاں کی گئی ہیں اور ایسے میں انتخابات کا شفاف
ہونا ممکن نہیں۔
![]() |
|
| ضلعی ناظمین کھل کر مسلم لیگ (ق) کی حمایت کرتے رہے ہیں |
ان کے علاوہ سابق وزراء جاوید جبار اور شفقت محمود، ڈان گروپ آف نیوز پیپرز کے حمید ہارون، نوائے وقت گروپ کے عارف نظامی، کاوش گروپ کے قاضی محمد اسلم، ڈیلی ٹائمز کے نجم سیٹھی، لاہور ہائی کورٹ کی سابقہ جج ناصرہ اقبال، سابق چیف سیکرٹریز عمر خان آفریدی اور سکندر حیات جمالی، دانشور حسن عسکری رضوی، رحیم اللہ یوسفزئی، احمد بلال اور آسیہ ریاض بھی اس گروپ میں شامل تھے۔