Thursday, 10 January, 2008, 11:26 GMT 16:26 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کیا کسی کو یاد ہے کہ پاکستانی عوام کو آخری بار اچھی خبر کب سننے کو ملی تھی؟
یہ سوال لاہور میں تازہ مبینہ خودکش حملے کی خبر سننے کے بعد ذہن میں آیا۔ ذہن پر کافی زور دیا، ساتھیوں سے دریافت کیا تاہم جواب کسی کو سمجھ میں نہ آیا۔
کچھ دوستوں نے تو طنزیہ طور پر بات قیام پاکستان تک پہنچا دی۔ خیر ملک بننے کے بعد بہت کچھ یقیناً اچھا بھی ہوا ہے لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ برس میں حالات انتہائی دگرگوں ہوئے ہیں۔
سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو اچھی خبروں میں شاید پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو اور مسلم لیگ کے رہنماء نواز شریف کی وطن
واپسی، معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی گزشتہ برس جولائی میں بحالی یا پھر جنرل مشرف کا ریٹائرڈ جنرل مشرف میں تبدیل ہونا
شامل ہیں۔ لیکن بحثیت قوم متفقہ خوشی کے بارے میں سوال پھر سوال ہی رہا۔
|
اچھی خبر کا انتظار
|
جمعرات کی بری خبر لاہور سے آئی۔ انیس پولیس والے اور کئی عام شہری جان کھو بیٹھے ہیں۔
حکومت کے لیے تو یقیناً ایک اور آسان راہ فرار شاید قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسندوں پر الزام ڈال دینا ہو لیکن آج تک یہ واضع نہیں ہوسکا کہ ان تمام حملوں کے ذمہ دار صرف وہی ہیں یا کچھ اور وجہ بھی ہے۔
یہ دعویٰ کہ ہر حملہ قبائلی شدت پسندوں کی ہی کارروائی ہے، ہضم کرنا روز مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے واضع حقائق اور ثبوت سامنے نہ لانے سے شکوک و شبہات اپنی جگہ قائم ہیں۔
ایسے میں صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کو اچھی اچھی باتیں بتانی چاہئیں، لوگوں میں ناامیدی نہیں پھیلانی چاہیے۔ ایسی اچھی خبر آخر میڈیا کہاں سے لائے۔ خود فرضی طور پر بنائے؟
اختتام برس حالات ایسے تھے کہ اچھے سال کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔ پہلے دس دن پر نظر ڈالیں تو حالات میں بظاہر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ایسے میں امید کس چیز کی کرنی چاہیے؟
یقیناً اچھی خبر کی جس کا امکان کم ہی دکھائی دے رہا ہے۔