http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 08 January, 2008, 15:30 GMT 20:30 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی

نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گندم اور آٹا ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کریں اور ذخیرہ اندوزوں پر جرمانے عائد کیے جائیں۔

یہ حکم انہوں نے آج کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے دوران دیا۔

پاکستان میں جہاں ان دنوں آٹے کا بحران ہے وہاں بجلی اور گیس کی بھی شدید قلت ہے۔ دیہی علاقوں میں روزانہ تقریبا آٹھ گھنٹے جبکہ شہروں میں تین سے پانچ گھنٹے تک بجلی کی اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔

پاکستان میں آٹے کے بحران کے بارے میں تو وفاقی حکومت نے آج صوبائی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن بجلی اور گیس کی قلت کا سرسری ذکر کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی ہے کہ جب تک حکومت انتظام کرے اس وقت تک توانائی کم سے کم استعمال کریں۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اکثر طور پر وزیراعظم کے مشیر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہیں لیکن آج ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ جس کی بظاہر وجہ حالات کے پیش نظر صحافیوں کے ممکنہ تیز و تند سوالات سے بچنا ہوسکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو نے وزارت خوراک و زراعت کے افسران اور چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ملک بھر میں ضرورت کے مطابق آٹے کی دستیابی اور مقررہ نرخ پر اس کی فروخت کو یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان بھر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے آٹے کا سخت بحران ہے، جہاں ملک کے کئی شہروں میں آٹا مارکیٹ میں دستیاب نہیں وہاں اس کی قیمت میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں فی کلو آٹا بیس سے پچیس روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقات بہت پریشان ہیں۔

پاکستان میں آٹے کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے تین ہفتے قبل خصوصی اجلاس بلا کر گندم برآمد کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا لیکن تاحال صورتحال بہتر نہیں ہوئی اور ملک بھر سے آٹے کی قلت بدستور موجود ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم ضرورت سے زیادہ موجود ہے لیکن آٹے کا بحران مصنوعی ہے۔ ان کے مطابق بازار میں گندم کی قیمت فی چالیس کلو گرام سات سو روپے ہوگئی ہے۔ لیکن حکومت آٹے کی قیمت مستحکم رکھنے کے لیے فلور ملز کو چار سو پیسنٹھ روپے میں فی من گندم فراہم کر رہی ہے۔

وزارت خوراک کے حکام کہتے ہیں کہ فلور ملز مالکان حکومت سے سستے داموں گندم خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں یا پھر بازار میں مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں امسال گندم کی پیداوار دو کروڑ تینتیس لاکھ ٹن ہوئی اور تقریباً چار لاکھ ٹن سٹاک پچھلے سال کا تھا۔ یوں اس برس کل دو کروڑ سینتیس لاکھ ٹن کا سٹاک تھا۔ پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت دو کروڑ بیس لاکھ ٹن ہے جس میں افغانستان کو دی جانے والی ساٹھ لاکھ ٹن گندم بھی شامل ہے۔
پاکستان حکومت نے گزشتہ برس گندم ضرورت سے زیادہ ہونے کا اعلان کر کے پانچ لاکھ ٹن برآمد کردی تھی۔ جس رقم پر پاکستان نے گندم بیچی تھی اب سے دوگنی قیمت پر خرید رہا ہے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن کے ذریعے حاصل ہونے والی گیس کے نرخوں کے بارے میں سفارش کردہ معاہدہ کی منظوری بھی دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ دسمبر کے مہینے میں عید کی چھٹیوں اور امن امان کی خرابی کے پیش نظر ٹیکس کی وصولی کم ہوئی ہے۔