http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 07 January, 2008, 21:27 GMT 02:27 PST

ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں آٹے کا بحران جاری

ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی آٹے کے بحران میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوتا جارہا ہے اور فلور مل مالکان نے گندم کی رعائتی قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ گندم کی اسمگلنگ پر قابو پایا جاسکے۔

دوسری جانب سرکاری یوٹیلٹی سٹورز پر سستے داموں آٹا لینے کے لیے غریب عوام کا بے پناہ رش دیکھنے میں آرہا ہے۔

یوٹیلٹی سٹور پر مردوں اور عورتوں کی الگ الگ لمبی قطاریں لگیں ہوئی ہیں اور وہاں لوگ آٹا لینے کے انتظار میں کئی گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں آٹے کی دس کلو کی بوری سستی مل جاتی ہے اور وہ بازار سے بہت مہنگی ملتی ہے جہاں سے وہ خرید نہیں سکتے۔

یوٹیلٹی سٹور پر دس کلو آٹے کی بوری ایک سو تیس روپے میں دستیاب ہے لیکن یہی بوری عام دکانوں پر ڈھائی سو روپے تک مل رہی ہے۔

حاجی یوسف نے کہا کہ گندم کا بحران صرف کراچی ہی میں نہیں بلکہ پورے ملک میں بڑھ رہا ہے اور حکومت فلور ملز مالکان کو مطلوبہ گندم فراہم نہیں کررہی ہے۔

انہوں نے آٹے کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گندم کی سو کلو کی بوری جو آٹے کی مِلوں کو ساڑھے بارہ سو روپے رعائتی قیمت پر فراہم کی جاتی ہے اس کا قیمت دو ہزار روپے کردے۔

ان کے بقول اس طرح گندم کی بیرونِ ملک سمگلنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے اور عام دکانوں پر دس کلو کی بوری ڈھائی سو روپے کے بجائے دوسوتیس روپے میں دستیاب ہوگی۔

سندھ حکومت کے وزیر خوراک اعجاز شاہ شیرازی اور سیکریٹری خوراک نوید کامران سے حکومت کا موقف جاننے کے لیے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن دونوں سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

ابھی لوگ آٹے کے بحران سے نہیں نکل پائے تھے کہ بجلی کے بحران نے انہیں آ لیا۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے پرنسپل انفارمیشن افسر سلطان حسن نے پیر کو بجلی کے بحران کے بارے میں بتایا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے جس کی وجہ سے واپڈا کے ذریعے کراچی کو ملنے والی پانچ سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی میں بھی کمی آئی ہے اور اب واپڈا کے ذریعے کراچی کو تین سو میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔

اسی طرح بن قاسم میں بجلی پیدا کرنے کا ایک یونٹ مرمت کے لیے بند ہے لہذٰا بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے لیکن صورتحال گزشتہ تین دنوں سے اب بہتر ہوچکی ہے۔