Sunday, 06 January, 2008, 15:34 GMT 20:34 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کےصوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے مرکز کے طور پرمشہور علاقے تحصیل مٹہ میں مزید پیش قدمی کرتے ہوئے کچھ اہم علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
سوات سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً دو سوگاڑیوں پر مشتمل فوج اور فرنٹیر کور کےایک قافلے نے اتوار کی صبح سخت سکیورٹی انتظامات میں مٹہ سے گٹ پیوچار کی جانب پیش قدمی کی اور وینے پل تک عسکریت پسندوں کی طرف سے خالی کردہ تمام علاقوں کو محفوظ بنا دیا ہے۔ قافلے میں بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں۔
سوات کے سرکاری میڈیا سنٹر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے تحصیل مٹہ کے حدود میں بریم اور وینے پل کے درمیان واقع تمام علاقوں رونیال، ارکوٹ اور شنگوٹئی پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں حکومت کی عملداری ایک بار پھر بحال کر دی ہے۔
واضح رہے کہ سوات میں تقریباً ڈیڑہ ماہ قبل عسکریت پسندوں نے چار تحصیلوں مٹہ، خوازہ خیلہ، مدئن اور کبل میں اپنے زیر کنڑول علاقے راتوں رات چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف راہ فرار اختیار کی تھی
بعدازاں سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے خالی کردہ علاقوں میں داخل ہوئے اور وہاں قائم تمام پولیس سٹیشنوں کو دوبارہ بحال کردیا۔سوات میں سکیورٹی فورسز نے زیادہ تر علاقوں کو محفوظ بنا کر وہاں حکومت کی عملداری قائم کر دی ہے۔ تاہم گٹ پیوچار سمیت بعض پہاڑی علاقوں میں بدستور عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہورہی ہے۔