Sunday, 06 January, 2008, 11:51 GMT 16:51 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں ملکی اور عالمی اقتصادی ماحول گزشتہ برسوں کی طرح سازگار نہ ہونے کے باعث، پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات اور اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ بات سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر کی تجزیاتی رپورٹ میں کہی ہے جسے مرکزی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں ہفتہ کو منظوری دی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی اور ملکی اقتصادی ماحول پہلے کی طرح سازگار نہیں ہے اور حکومتی قرضوں میں اضافے کے باعث افراط زر پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
حکومتی قرضے ایک سو اکیانوے ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جو سہ ماہی اور سالانہ مقررہ حدود سے تجاوز کر چکے ہیں اور اسی وجہ سے افراط زر بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالانہ مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کی شرح 7.2 فیصد کے طے کردہ ہدف سے کم رہے گی تاہم اس کے باوجود اقتصادی نمو کی شرح معقول سطح تک رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتوں میں عالمی منڈیوں میں اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی پڑیں گے جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور افراط زر کی شرح 6.5 فیصد کے مقررہ ہدف سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی بہتر رہی تاہم بیرونی کھاتوں میں نمایاں عدم توازن کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔آنے والے مہینوں کے دوران ملک میں طلب کا دباؤ بڑھنے اور بین الاقوامی کریڈٹ مارکیٹوں میں مسائل سنگین ہونے کی صورت میں ان خدشات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مالیاتی اظہاریوں میں حالیہ تبدیلیوں کو درست نہ کیا گیا تو مجموعی معاشی صورتحال پیچیدگیوں کا شکار ہو جائے گی۔