Sunday, 06 January, 2008, 18:40 GMT 23:40 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر متحدہ مجلس عمل کے رہنماء مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد سندھ میں جلاؤ گھیراؤ اور مار دھاڑ کے واقعات سے پیپلز پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرحد اور پنجاب کی ٹرانسپورٹ اور کراچی میں املاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات کے بعد پیپلز پارٹی کےاقتدار میں آنے کے بعد کیا اس سے کس قسم کی توقعات وابستہ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے اسے احساس ذمہ داری ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے رویہ پر کاربند ہوتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بینظیر کے قتل کے بعد فوری رد عمل میں حکومت کی جانب سے بیت اللہ محسود پر الزام عائد کرنا حکومت کی جلد بازی تھی حالانکہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد شواہد سامنے لاتی۔
انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم اپنےمرکزی الیکشن آفس میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک طرف قاف لیگ کو قاتل لیگ قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف اس کےامیدوار نے ڈیرہ اسماعیل میں مسلم لیگ قاف سےاتحاد کر کے اپنے اس دعوی کی نفی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خود پیپلز پارٹی نے پہلے سکاٹ لینڈیارڈ کی تحقیقاتی ٹیم سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جب وہ ٹیم یہاں پہنچ گئی ہے تو انہوں نے اعتراض شروع کر دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں بجلی گیس اور آٹے کا بحران حکومت کا پیدا کردہ ہے اور اس کا مقصد اصل مسائل سے توجہ ہٹانا
ہے۔