http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 07 January, 2008, 01:00 GMT 06:00 PST

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان:لوڈشیڈنگ میں کمی کااعلان

پاکستان میں پانی اور بجلی کے حکام نے بجلی کی قلت کے باعث کی جانے والی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کو ایک دن میں آٹھ گھنٹے سے کم کر کے تین گھنٹے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ اتوار کی شام لاہور میں نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

نگران وزیر اعظم نےملک میں بجلی کے حالیہ بحران پر قابو پانے اور اس کے حل کے لیے حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا تھا۔
نگران وزیراعظم نے وفاقی وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کر کے واپڈا کے گرڈ سٹیشنوں اور ہائی پاور ٹرانسمیشن لائنوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیپکو چودا سو پچاس میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے لیکن عید کی تعطیلات اور بینظیر بھٹو کی ہلاکت سے پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے کیپکو کو بروقت ایندھن نہ ملنے سے مزید چھ سو میگاواٹ بجلی کی کمی ہوگئی جس کی وجہ سے بجلی کا بحران پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے بجلی کے بحران کی وجہ سے لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات پر ان سے معذرت کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک نئے آبی ذخائز کی تعمیر اور پن بجلی کی پیداوار میں معقول اضافہ نہیں ہوتا اس وقت تک ملک کو لوڈشیڈنگ کا سامنا رہے گا۔

طارق حمید نے بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بجلی کی پیدوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی بچت پر بھی زور دیا۔

نگران وفاقی وزیر نے بجلی کے حالیہ بحران کی انکوائری کرائے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا حتمی جواب دینے سےگریز کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار سولہ تک نئے ڈیموں کی تعمیر سے بجلی کی ملکی پیدوار میں دس ہزار میگاواٹ اضافے کا امکان ہے۔
ان کے بقول کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا حتمی فیصلہ سیاسی حکومت کرے گی۔