Saturday, 05 January, 2008, 18:37 GMT 23:37 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پیپلز پارٹی نے حکومت سے اپنے نئے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے لیے مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کا تحریری مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر اے رحمان ملک نے وزارت داخلہ کے سیکریٹری سید کمال شاہ کو تحریر ایک خط میں آصف زرداری کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی کی مکمل ضروریات درج کی ہیں۔
آصف علی زرداری کو انتہا پسند اور دیگر گروہوں سے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ فی الوقت نوڈیرو، لاڑکانہ میں مقیم ہیں جہاں انہیں ان کی جان کے تحفظ کے لیے اعلی درجے کی سکیورٹی کی ضرورت ہے۔ تاہم خط میں ان گروہوں کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔
پارٹی کا مطالبہ ہے کہ:
--تمام فریکونسیوں کا احاطہ کرنے والے جیمرز تمام صوبائی دارالحکومتوں میں مہیا کرائے جائیں
--ان چاروں شہروں سمیت اسلام آباد میں چار پولیس موبائل گاڑیاں
-- کم از کم پچاس پولیس اہلکار اور چار موبائل گاڑیوں کی نوڈیروں میں تعیناتی
--دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگانے والے تربیت یافتہ کتے
--عوامی جلسوں کے لیے بلیٹ پروف سکرین
اور
-- ہر صوبے میں ایک ایسا سینئر پولیس افسر جس سے ہنگامی حالت کی صورت میں رابطہ کیا جاسکے۔
حکومت سے سکیورٹی کے مطالبات سے بھرے اس قسم کے خطوط بےنظیر بھٹو مرحومہ کے لیے بھی باقاعدگی سے لکھے جا رہے تھے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ ان کی ہلاکت کی ایک وجہ مناسب سکیورٹی کی عدم فراہمی تھی تاہم حکومت کا موقف تھا کہ انہیں غیرمعمولی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔
اس تازہ خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری جلد پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم پورے ملک میں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ آصف علی زرداری ان انتخابات میں خود خرابی صحت کی وجہ سے حصہ نہیں لے رہے تھے۔
ادھر آصف زرداری نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھے ایک مضمون میں حکومت کے اندر چند عناصر کو بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وہ آج ایک دن کے لیے دبئی روانہ ہوئے ہیں۔