http://bbc.com.im/urdu/

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان

ٹانک: کارروائی جاری تو تعاون ختم

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں درے محسود کے قبائلی عمائدین نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے محسود قبائل کے خلاف کارروائی بند نہیں کی تو وہ حکومت کے ساتھ تعاون ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

محسود قبائل کے ساٹھ رکنی جرگے نے پولیٹیکل انتظامیہ کو بھی اپنے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

جرگے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ سنچر کو جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے درے محسود قبائل کے ایک ساٹھ رکنی جرگے نے پولیٹکل کمپاؤنڈ ٹانک میں پولیٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کی۔ جرگے میں درے محسود کے سرکردہ قبائلی عمائدین کے علاوہ سابقہ ایم این اے مولانا معراج الدین نے بھی شرکت کی۔

جرگے کے رکن کے مطابق ملاقات میں پولیٹیکل ایجنٹ کو بتایا گیا کہ محسود قبائل نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے محسود قبائل کے خلاف جاری کاروائی بند نہیں کی تو دو دن کے اندر قبائل حکومت سے عدم تعاون کا اعلان کر دیں گے۔

جرگے کے رکن نے کہا کہ حکومت بےگناہ محسود قبائل کو تنگ کر رہی ہے اور ٹانک اور منزئی میں پچاس سے زیادہ بے گناہ محسود قبائل کو حراست میں لیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہاں بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار محسود قبائل ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ان کے مطابق اب محسود قبائل مجبور ہوگئے ہیں کہ وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں۔

اس سے پہلے بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے قبائلی علاقے جنوبی شمالی وزیرستان اور سوات سے فوج کو واپس نہ بلایا تو وہ حکومت کے خلاف کارروائی شروع کردیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام حکومت نے بیت اللہ محسود پر لگایا ہے لیکن بیت اللہ محسود نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

ادھر محسود قبائل کے جرگے سے تین دن پہلے جیٹ طیاروں نے محسود کے علاقے میں بمباری بھی کی تھی تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔