Saturday, 05 January, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
تحصیل کبل کی گلوچ خیر آباد یونین کونسل کے ناظم جعفر خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو سکیورٹی فورسز نے طالبان کے مشکوک ٹھکانوں پر مسلسل گولہ باری کی۔
ان کے مطابق گولہ باری کا نشانہ بننے والے ایک گھر میں موجود افراد باہر نکل کر کسی محفوظ جگہ پر پناہ لینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ گولے کا نشانہ بن گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کالہ کلئی میں بھی گولے لگنے سے تین گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور ایک خاتون کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
جعفر خان کے بقول ہلاک ہونے والے تمام افراد کو سنیچر کی دوپہر کو گلوچ خیر آباد کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس قبل بھی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں چار بےگناہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
یونین کونسل کے ناظم کے مطابق اس واقعے کے بعد عام لوگوں میں شدید خوف ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں
طالبان نہیں ہیں لیکن پھر بھی عام شہریوں کونشانہ بنایا جارہا ہے۔ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ سکیورٹی فورسز احتیاط سے کام لیتے
ہوئے صرف ان علاقوں کو نشانہ بنائیں جہاں پر طالبان کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ہو۔
![]() |
|
| سکیورٹی فورسز نےطالبان کے مشکوک ٹھکانوں پر مسلسل گولہ باری کی |
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں طالبان اور فوج کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوئی تھی تاہم بعد میں طالبان اپنےمورچے خالی کرنے کے بعد نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ حکومت نے طالبان کے زیر کنٹرول علاقے واپس حاصل کرکے وہاں پر کرفیو نافذ کیا جو تاحال برقرار ہے۔
فوج نے گزشتہ کچھ عرصے سے سرچ آپریشن کے دوران مقامی طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ کا ساتھی ہونے کے شبہہ میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں زیادہ تر بے گناہ افراد شامل ہیں۔