http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 04 January, 2008, 10:30 GMT 15:30 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’قتل پاکستان کی سلامتی پر حملہ‘

ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کا قتل پاکستان کی سلامتی پر حملہ تھا۔

انہوں نے یہ بات پاکستان کے ایک روزہ دورے پر پہنچنے کے بعد پیپلز پارٹی سیکرٹیریٹ میں تعزیت کے لیے آنے پر کہا۔ اس موقع پر پارٹی کے رہنما بابر اعوان بھی موجود تھے۔

ایرانی وزیرِخارجہ نے بینظیر بھٹو کی تصویر پر پھول چڑھائے اور دعائے مغفرت کی۔ ایک ایرانی سفارت کار کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نوڈیرو بھی جانا چاہتے تھے لیکن حکومت نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ تاہم انہوں نے ٹیلیفون پر پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے تعزیت کی۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی نگران ہم منصب انعام الحق سے بھی ملاقات کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق انہوں نے گیس پائپ لائن سمیت مختلف دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ جمعہ کی صبح ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ دورے کا بنیادی مقصد بےنظیر بھٹو کی موت پر تعزیت کرنا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ بعد میں صدر پرویز مشرف سے راولپنڈی میں ملاقات کی۔ انہوں نے نگران وزیر اعظم میاں محمد سومرو سے بھی باضابطہ ملاقات میں دو طرفہ تعاون پر بات کی۔