Friday, 04 January, 2008, 12:46 GMT 17:46 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یورپی یونین نے پاکستان میں عام انتخابات کے جائزے کے لیے اپنے مشن کا آغاز کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اٹھارہ جنوری تک سکیورٹی کی صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی اور انتخابی عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوگا۔
یہ بات یورپی یونین مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔
جرمنی سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن مائیکل گہلر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چند روز میں امن عامہ کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور انتخابات کی تاخیر کے اعلان پر بھی کوئی پرتشدد ردعمل سامنے آیا ہے۔ بقول ان کے’ایسے حالات میں امید کی جاسکتی ہے کہ عام انتخابات پرامن طریقے سے منعقد ہوسکتے ہیں‘۔
عام انتخابات کے لیے آبزرویشن مشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا گیارہ ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم اسلام آباد میں جبکہ پچاس رکنی وفد تمام ملک میں انتخابی عمل کا جائزہ لے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے مکمل ہونے کے بہتّر گھنٹوں بعد ابتدائی رپورٹ جبکہ تفصیلی رپورٹ دو ماہ بعد جاری کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کی شفافیت پر نظر رکھنے کا کام ان کے علاوہ سیاسی جماعتوں، عوام اور میڈیا کا بھی ہے۔
حزب اختلاف کی بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی کمیشن اور مقامی حکومتوں کی غیرجانبداری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مائیکل گہلر کا کہنا تھا کہ اب اس موقع پر بعض پارٹیاں بھی اقرار کرتی ہیں کہ نیا انتخابی کمیشن مشکل ہے۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابی کمیشن اور مقامی حکومتیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں گی اور انتخابی عمل میں غیرقانونی مداخلت نہیں کریں گی۔ ’ہم بھی ان پر آئندہ چھ ہفتوں میں نظر رکھیں گے۔’
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تاہم سکیورٹی کی وجہ سے وہ وزیرستان جیسے شورش زدہ علاقوں میں نہیں جائیں گے۔ ’ہمارے ماہرین کی رپورٹ کی بنیاد پر ہم تعین کریں گے کہ ہمیں کہاں کہاں اور کس وقت میں جانا ہے۔’
انتخابی نتائج میں شفافیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نتائج کی تیاری کسی ایک جگہ نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے