ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تیس دن کے لیے انتخابات ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد امیدواروں کو نئے سرے سے مہم چلانی پڑیگی جس سے ان کے اخراجات میں اضافے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اخراجات کی حد میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ۔
آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات کی گہما گہمی میں اضافہ ہوا ہی تھا تو پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو ایک حملے میں ہلاک ہوگئیں نتیجے میں تمام انتخابی سرگرمیاں معطل ہوگئیں، اس سے قبل امیدواران اپنی انتخابی مہم پر لاکھوں روپے خرچ کرچکے تھے۔
کراچی کے ایک صوبائی حلقے سے مسلم لیگ نواز کے امیدوار سردار رحیم بتاتے ہیں کہ ایک حلقے میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ آبادی ہوتی ہے سب کے پاس جانا ممکن نہیں ہوتا، اس کے لیے پوسٹر اور بینروں کی مدد حاصل کی جاتی ہے اب یہ سب کچھ دوبارہ سے کرنا پڑیگا۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم اور ماحول کے اثرات اور شرپسند عناصر کی وجہ سے
بینر اور پوسٹر خراب ہوچکے ہیں اب یہ پھر سے بنوانے پڑیں گے۔
سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو تو جماعت کی بھی کچھ مدد حاصل ہوتی ہے، مگر آزاد امیدواروں کے لیے اپنے طور پر اخراجات کا یہ وزن اٹھانا تھوڑا تکلیف دہ ہے۔
یہ تو گنجان آبادی والے علاقوں کے امیدواروں کے خیالات ہیں مگر دیہی علاقے میں آبادی پھیلی ہوئی ہے اور امیدواروں کو ووٹر تک رسائی کے لیے زیادہ دشواری پیش آتی ہے، وہاں کے امیدوار کے لیے ایک ماہ کا عرصہ زیادہ مہنگا ثابت ہوگا۔
ٹھٹہ کے صوبائی حلقے کی امیدوار سسی پلیجو کا بھی کہنا ہے انتخابی مہم کے اخراجات میں اضافہ ہوگا مگر اصل اہمیت ووٹر اور اس کی خواہش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اخراجات امیدوار برداشت کرلیں گے مگر یہ بھی واضح ہونا چاہیئے کہ انتخابات حقیقت میں ہو رہے ہیں یا غیر اعلانیہ مدت ملتوی کرنے کے لیے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے اخراجات کی حد پندرہ لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار لیے حد دس لاکھ رپے مقرر ہے، اب اس میں اضافہ کا کوئی امکان نہیں۔
صوبائی الیکشن کمشنر چودھری قمر زمان کا کہنا ہے کہ قانون کمیشن نہیں پارلیمنٹ بناتی ہے، وہ قانون پر عمل کے پابند ہیں اور قانون کے تحت اخراجات کی حد مقرر ہے۔ جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
امیدوار کسی سیاسی جماعت کا ہو یا آزاد لوگوں اس کے اخراجات میں اضافہ یقینی ہے۔