Wednesday, 02 January, 2008, 01:55 GMT 06:55 PST
رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
امریکہ کی کانگرس کے بارہ ارکان نے وزیر خارجہ کونڈولیزارائس سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کروائی جائیں۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے برجیش اپادھیائے نے اطلاع دی ہے کہ کانگرس کے بارہ ارکان نے وزیر خارجہ کونڈولیزارائس سے یہ مطالبہ ایک خط کے ذریعے کیا ہے جس میں پاکستان میں آٹھ جنوری کو انتخابات وقت پر کرانے کے لیے حکومتِ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کو بھی کہا گیا ہے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کے ان بارہ ارکان نے بش انتظامیہ کے اس موقف پر بھی اعتراض کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان ڈیموکریٹ ارکان جن کی قیادت سٹیو ازرائیل کر رہے ہیں کہا ہے کہ لبنان میں رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات تو امریکہ نے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کروانے کی حمایت کی تھی۔
اس سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی بھی بش انتظامیہ سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کے تحت کروانے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔
دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق نائیک نے بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی قرار داد تیار کر رہی ہے جس میں بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات غیر ملکی تفتیش کاروں سے کرانے کامطالبہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ قرار داد جو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کی طرف سے قائم کردہ تین رکنی کمیٹی تیار کر رہی ہے اقوام متحدہ کو
بھی بھیجی جائے گی۔
![]() |
|
| پیپلز پارٹی بھی اقوام متحدہ کو ایک قرار داد بھیج رہی ہے |
بینظیر بھٹو کے قتل پر حکومت پاکستان کی ابتدائی تحقیقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نہ تو ابھی کسی عینی شاہد کا بیان قلمبند کیا گیا اور نہ ہی جیپ کا معائنہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جائے وقوعہ کو بھی فوری طور دھلوا دیا۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو ایک بہت بڑی شخصیت تھیں اور ان کے قتل کی تحقیقات بین الاقوامی ماہرین کو کرنی چاہیے۔
کراچی میں بی بی سی اردو سروس کے نمائندے ریاض سہیل نے اطلاعی دی ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کی زیر نگرانی بین الاقوامی ماہرین سے کروانے کا مطالبہ ایک آن لائین اپیل میں بھی کیا جا رہا ہے۔
اس اپیل میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون کو مخاطب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام صوبوں کا یہ مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ کی تفتیش کاروں سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرائی جائے جس طرح لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کی گئی تھی۔
ورلڈ سندھی آرگنائزیشن کے منور لغاری نے یہ اپیل پٹیشن ڈاٹ کام ویب سائیٹ پر بنائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام اور خاص طور پر سندھ کے لوگوں کو پاکستان کے کسی بھی تحقیقاتی ادارے پر اعتبار نہیں ہے۔
’سندھی جو بینظیر بھٹو کے سب سے زیادہ حمایتی ہیں سمجھتے ہیں کہ جنرل مشرف کی ہدایت پر خفیہ ادارے ان کے قتل میں ملوث ہیں۔‘
اس آن لائن پٹیشن پر ساڑھ انیس سو لوگ دستخط اور اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔ جن میں اکثریت بیرون مقیم پاکستانیوں کی ہے۔
اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایک شخص دل اچاریا کہتے ہیں کہ ’اس واقعے کی ہم واضح تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ ہمارے ذہن میں ایک واضح تصویر سامنے آئے کہ کون قاتل ہے تاکہ اس سے ہم انتقام لے سکیں۔‘
سلطان احمد چانڈیو کہتے ہیں کہ تحقیقات شفاف طریقے سے ہونے چاہیے صدر سے گذارش ہے کہ وہ اس تحقیقات کی اجازت دیں۔
پٹیشن ویب سائیٹ پر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی پٹیشن سب سے زیادہ متحرک پٹیشن ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں ایک حملہ میں ہلاک ہوگئیں تھیں۔
ابتدائی طور پر حکومت کا موقف تھا کہ وہ ایک خودکش بم حملے میں ہلاک ہوگئی ہیں یہ حملہ القاعدہ کی جانب سے کیا گیا تھا مگر القاعدہ سے منسلک گروہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔
ٹی وی چینلز پر ٹیلی کاسٹ ہونے والی حالیہ فلم میں ایک شخص کو بینظیر بھٹو پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس نے ایک نئی صورتحال نے جنم دیا ہے اور حکومت دفاعی پوزیشن پر چلی گئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور بینطیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے بھی اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔