Tuesday, 01 January, 2008, 09:24 GMT 14:24 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان
پاکستان کے قبائلی جنوبی وزیرستان میں نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی نامعلوم افراد نے دیرسکاؤٹس فورس کے چار اہلکاروں کو تحصیل لدھا کے علاقے سے اغواء کر لیا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے تلاشی کے عمل کے ساتھ ساتھ جوابی کارروائی بھی شروع کی ہے جس میں مشکوک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منگل کو تحصیل لدھا میں دیر سکاؤٹس فورس کے چار اہلکار قلعہ کے قریب ایک چیک پوسٹ سے پیدل سکاؤٹس قلعہ لدھا آ رہے تھے کہ ایک پہاڑی نالےمیں مسلح نقاب پوشوں نے ان پر حملہ کیا اور چاروں اہلکاروں کو اغواء کر کے نامعوم مقام پر منتقل ہوگئے۔
حکام کے مطابق اہلکاروں کے اغواء کے بعد سکیورٹی فورس نے جوابی کارروائی میں توپخانے کا بھی استعمال کیا ہے۔
حکام کے مطابق دیر سکاؤٹس فورس کے چاروں اہلکار وردی میں تھے جن کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا۔ مقامی انتظامیہ کے تلاشی کے عمل میں تاحال کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔
اس واقعہ کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں طالبان کافی سرگرم ہيں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام حکومت نے بیت اللہ محسود پر لگایا ہے لیکن تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولا عمر نے اس الزام کا سختی سے تردید کیا ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں حکومت خود ملوث ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے یہ اشارے بھی ملے ہیں کہ حکومت نے بیت اللہ محسود کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری مکمل کی ہے۔