Tuesday, 01 January, 2008, 15:21 GMT 20:21 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، کراچی
پاکستان کی حصص مارکیٹ کو دوسرے روز بھی مندی کا سامنا رہا اور کراچی سٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈکس میں چار سو آٹھ پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت اور ہنگامہ آرائی کے بعد گزشتہ روز یہ کمی سات سو پوائنٹس تھی۔ منگل کو جب کاروبار بند ہوا تو انڈکس تیرہ ہزار چھ سو پوائنٹس کی سطح پر تھی۔ پیر کو ہنڈرڈ انڈکس چودہ ہزار ستتر پوائنٹس پر تھا۔
حصص مارکیٹ کھلنے کے دوسرے روز منگل کو بتیس کروڑ چوبیس لاکھ روپے سے زائد کے سودے ہوئے ہیں اور تین سو پینتالیس کمپنیوں میں سے دو سو سولہ کے حصص منفی اور ایک سو دس کمپنیوں کے مثبت رہے ۔
اس سے قبل پیر کو کراچی سٹاک ایکسچینج کا آغاز ہی 4.3 منفی پوائنٹس سے ہوا اور کے ایس ای ہنڈرڈ انڈکس 14000 پوائنٹس تک آگیا۔ مارکیٹ
کے آغاز سے ہی بیشتر شیئرز لوئر لاک کی زد میں آگئے تھے۔
|
مشرف حمایت میں کمی
|
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرکٹ بریکر کے اس قانون کی وجہ سے مارکیٹ کریش ہونے سے بچ گئی ۔ تجزیہ نگاروں نے مزید کہا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت اور اس کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد سرمایہ کار خوف میں مبتلا ہیں۔
تجزیہ نگار مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں یہ خوف ہے کہ ملکی حالات مزید خراب ہوں گے جس وجہ سے مارکیٹ پانچ فیصد تک گر گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر مارکیٹ جمعہ کے روز بھی کھلتی تو بھی یہی صورتحال سامنے آتی۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں بہتری اس وقت ہی ہوسکتی ہے جب یہ واضح ہو کہ انتخابات کب اور کتنے پرامن ہوتے ہیں۔
کراچی سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا ہے کہ پچھلے مہینوں میں حالات اور امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں تھی مگر اس کے باوجود بھی مارکیٹ بہتر چل رہی تھی۔ مگر بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ انتخابات بہت طویل عرصے کے لیے ملتوی نہ ہوجائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے جو پاکستان اور ایٹمی تنصیبات کے حوالے سے بات کی جا رہی اور جو بیانات سامنے
آرہے ہیں اس سے تاجر اور سرمایہ کار کافی پریشان ہیں۔
|
مندی کا تسلسل
|
کراچی حصص مارکیٹ پر غیرملکی سرمایہ کار بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چھٹیوں کے باعث ان کا رد عمل سامنے نہیں آیا۔
عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا ہے کہ اگر غیرملکی سرمایہ کار شیئرز فروخت کرتے ہیں تو اس کے مارکیٹ پر مزید اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر لوگوں کا اعتماد بحال ہوگیا تو کل ہی مارکیٹ مثبت ہوجائیگی۔