Monday, 31 December, 2007, 09:15 GMT 14:15 PST
رفعت اللہ اورکرزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
تحریک طالبان پاکستان نےمطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات آزاد تفتیشی اداروں سے کرائی جائے تاکہ واقعہ میں ملوث اصل افراد کا کھوج لگایا جا سکے۔
تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے پیر کو نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے بتایا کہ حکومت اس واقعہ کے بعد مسلسل بیت اللہ محسود کے خلاف ذرائع ابلاغ میں بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہی ہے اور طالبان کو خواہ مخواہ اس قتل میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزرات داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ کی جلدی بازی اور غلط بیانات کی وجہ سے پاکستان بھر میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کا شدید ردعمل ہوا اور درجنوں بے گناہ لوگوں مارے گئے جبکہ اربوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔
ترجمان نے دھمکی دی کہ اگر آئندہ طالبان اور قبائلیوں کو اس قسم کے واقعات میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کے خلاف کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔
مولوی عمر نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم کے قتل کے بعد مختلف واقعات میں ہونے والے نقصانات کا فوری طورپر ازالہ کیا جائے اور ہلاک و زخمی ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کا قتل ملک و قوم کے لیےایک بڑا سانحہ ہے لہذا اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر آزاد اداراوں سے تحقیقات کرائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کےلیے وہ تمام تحقیقات قابل قبول ہوں گی جو آزاد اداروں سے کرائے گئے ہوں بشرطیکہ یہ ادارے امریکی اور برطانوی اثرو رسوخ سے آزاد ہوں۔
واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد حکومت نے وزیرستان میں محسود جنگجوؤں کےسربراہ بیت اللہ محسود کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا
تھا۔حکومت نے دلیل کے طورپر بیت اللہ محسود کے کسی مبینہ مولوی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپ بھی ذرائع ابلاغ کو پیش کی تھی جس
میں حکومت کے مطابق دونوں اس واقعہ پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے سنے گئے ہیں۔تاہم طالبان نے اس ٹیپ کو جعلی قرار دیا تھا۔