Monday, 31 December, 2007, 05:59 GMT 10:59 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ایک ہنگامی اجلاس آج (پیر) اسلام آباد میں ہو رہا ہے، جس میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل اور امن و امان کی صورتحال کے پس منظر میں آٹھ جنوری کو ہونیوالے انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونیوالے ملک گیر ہنگاموں میں چالیس کے قریب افراد کی ہلاکت جبکہ اربوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اتوار کو جلاؤ، گھیراؤ اور لوٹ مار کے مبینہ واقعات میں حکومت کے مطابق کافی کمی واقع ہوئی ہے۔
نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں تو الیکشن وقتی طور پر ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن مبصرین کے مطابق نوڈیرو میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر کے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) نے بھی پیپلز پارٹی کے فیصلے کی روشنی میں انتخابات کے بائیکاٹ پر نظر ثانی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے قتل پر الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان
کیا تھا۔
![]() |
|
| ہنگاموں میں چالیس کے قریب افراد ہلاک ہلاک ہوئے ہیں |
اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کس فیصلے پر پہنچتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی میں ان کا ایک اہلکار ہلاک ہو چکا ہے جبکہ مختلف علاقوں خصوصاً سندھ میں کمیشن کے دفاتر پر حملے کیے گئے ہیں۔