Sunday, 30 December, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ ایک اتفاق ہے کہ بینظیر بھٹو کو حملے کے بعد جن ڈاکٹر مصدق خان کے پاس لایا گیا تھا پاکستان کے سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو لیاقت باغ میں گولی لگنے کے بعد انہی کے والد صادق خان کے پاس لایا گیا تھا۔
جمعرات کو مصدق خان راولپنڈی جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی پر تھے جب بینظیر بھٹو کو وہاں لایا گیا۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ جب انہوں نے بینظیر کو دیکھا تھا ان کی زندگی تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ بینظیر جہاں ہلاک ہوئیں اس سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کوپھانسی دی گئی تھی۔
رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق چھپن سال قبل جب پاکستان کے ایک اور سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو لیاقت باغ میں گولی لگی تو اس وقت ہسپتال میں مصدق خان کے والد صادق خان ڈیوٹی پر تھے۔
مصدق خان نے کہا کہ بینظیر کے دِل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی، ان کا بلڈ پریش بالکل ختم تھا اور ان کا سانس نہیں چل رہا تھا۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ’میں نے اپنی پوری کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوا۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں، وہ ایک عظیم رہنما تھیں، وہ ہماری رہنما تھیں‘۔
ڈاکٹر خان نے کہا کہ ان کے دو بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خدا نہ کرے کے انہیں بھی اس طرح کے اتفاق کا سامنا کرنا پڑے۔
ڈاکٹر خان نے یہ بھی کہا کہ بینظیر بھٹو اپنے سر پر شدید چوٹ سے ہلاک ہوئیں جو خودکش حملے کے وقت کار کے سن روف سے لیور ٹکرانے سے آئی تھی۔ لیکن پیپلزپارٹی کے ارکان کہتے ہیں کہ ان کی ہلاکت گولیاں لگنے سے ہوئی۔