Saturday, 29 December, 2007, 16:57 GMT 21:57 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بارے میں شکوک وشبہات دور کرنے کی غرض سے قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہے بشرطیکہ بینظیر کے اہل خانہ اور پارٹی اس پر تیار ہوں۔
حکومت نے بیت اللہ محسود کے اس انکار کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث نہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ دو روز کے ہنگاموں میں اب تک اڑتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اربوں روپے کی سرکاری اور نجی املاک
کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس دوران سو سے زائد قیدی بھی جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
|
|
بیت اللہ محسود کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ انہوں نے بینظیر پر خودکش حملہ نہیں کیا برگیڈئر چیمہ کا کہنا تھا کہ کوئی مجرم اپنا جرم کبھی تسلیم نہیں کرتا۔
’ہم نے آپ کو تمام ثبوت دکھا دیے تھے۔ اب تحقیقات کرنے والوں پر چھوڑ دیں کہ وہ کس فیصلے پر پہنچتے ہیں۔ تاہم میں کہنا چاہتا ہوں
کہ کوئی مجرم اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ وہ کیوں کرے یہ اسے سوٹ نہیں کرتا۔ میرے خیال میں اس (بیت اللہ محسود) کے سوا کسی کے
پاس یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ خودکش حملہ آوروں کو بھرتی کرے اور تیار کرے۔‘
![]() |
|
| حکومت نے بینظیر بھٹو پر خود کش حملہ کرنے والے کا یہ خاکہ جاری کیا ہے |
انہوں نے واضع کیا کہ حکومت ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے مقابلے میں اب حالات معمول پر آ رہے ہیں اور چند چھوٹے موٹے واقعات کے بعد سنیچر کو تمام ملک میں حالات قابو میں رہے۔
شہزاد ملک کے مطابق اس سے قبل صد ر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا ہے کہ وہ ملک میں امن وامان
قائم رکھنے کے سلسلے میں تمام وسائل کو بروئےکار لائیں اور قومی اور نجی عمارتوں اور لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے۔
![]() |
|
| شرپسندوں کو فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: پرویز مشرف |
صدر نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف ملک میں ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے لوگوں کو شدید پرشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور لوگوں نے مظاہرین کی طرف سے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے خدشے کے پیش نظر ادویات کھانے پینے کی اشیاء اور پیٹرول پمپ بند کردیے ہیں۔
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ شرپسندوں کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔
اجلاس میں نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو، فوج کے ستبراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، وزیر داخلہ حامد نواز، وزیر اطلاعات نثار اے میمن کے علاوہ سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن نے نظیر بھٹو پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا اس کے علاوہ ملک میں امن وامان کی مجموعی صورتحال اور بالخصوص صوبہ سندھ کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا جہاں پر امن وامان برقرار رکھنے کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج بھیجی گئی ہے۔
دریں اثناء نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو نے صوبوں کے نگران وزراء اعلی سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں امن وامان کی
صورتحال کو کنٹرول کرنے کے ضمن میں کیے جانے والی اقدامات کو مانیٹر کریں اور امن وامان خراب کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی
جائے۔