Friday, 28 December, 2007, 07:57 GMT 12:57 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نگران حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ جنوری کے عام انتخابات کے التواء کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی اجتماعی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان نگران وزیر اعظم میاں محمد سومرو نے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیئے دو کمٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے جبکہ وزارت داخلہ نے پہلے ہی ایک کمیٹی قائم کر دی تھی۔
وفاقی کابینہ نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے قیام امن کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
راولپنڈی میں جمعرات کے واقعے کے بعد آٹھ جنوری کے عام انتخابات کا انعقاد خطرے میں پڑا گیا تھا۔ تاہم نگران حکومت کے اعلان سے بظاہر ہوتا ہے کہ وہ انتخابات کو مقررہ وقت پر کرانا چاہتی ہے۔
وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ بےنظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کی درخواست پر ان کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا۔ اجلاس میں ہلاک شدگان کے لیئے فاتحہ بھی ادا کیا گیا۔
اس سے قبل کل رات گئے صدر مملکت پرویز مشرف نے محترمہ بینظیر بھٹو پر حملے کے فوراً بعد ایوان صدر میں ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا تھا۔
اجلاس میں نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو، وزیراطلاعات اور وزیر داخلہ، سیکورٹی اداروں کے سربراہوں اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی تھی۔
صدر نے سیکورٹی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے پہلے ہی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی کنوینر محمود خان اچکزئی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت حوالے سے تحریک کا احتجاجی پروگرام معطل کرکے کل یعنی جمعہ کے روز یوم سیاہ شٹر ڈاؤن اور سوگ کا اعلان کیا ہے۔